ٹو جی سکینڈل: ’نقصان کا تخمینہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 نومبر 2012 ,‭ 08:03 GMT 13:03 PST
اے راجا

ٹو جی گھپلے کے سامنے آنے کے بعد اس وقت کے ٹیلی کمیونکیشن کے وزیر اے راجا کو اپنے عہدے سے متعفی ہونا پڑا تھا

ہندوستان میں ایک سابق اعلیٰ سرکاری اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی سیاست میں طوفان کھڑا کرنے والے ٹو جی سپیکٹرم کیس میں پونے دو لاکھ کروڑ روپے کے نقصان کا تخمینہ بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

آر پی سنگھ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کے سابق ڈائریکٹر جنرل ہیں اور ٹیلی کام کے محکمے کی نگرانی انہیں کے پاس تھی۔ سی اے جی ایک آئینی ادارہ ہے جو حکومت کی پالیسیوں اور حساب کتاب کی نگرانی کرتا ہے۔

ملک میں ٹو جی سپیکٹرم کے لائسنس جاری کرنے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام ہے جس کی وجہ سے اس وقت کے وزیر برائے ٹیلی مواصلات اے راجہ سمیت کئی اعلی سرکاری افسران اور نجی کمپنیوں کے اہلکاروں کو جیل جانا پڑا تھا اور ان کے خلاف ابھی مقدمات چل رہے ہیں۔

حزب اختلاف بی جے پی اس کیس میں وزیر اعظم من موہن سنگھ اور وزیر خزانہ پی چدمبرم کے استعفوں کا بھی مطالبہ کرتی رہی ہے۔

لیکن وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو رپورٹ تیار کی تھی اس میں نقصان کی رقم کا تخمینہ شامل نہیں تھا اور حکومت کو پیش کی جانے والی رپورٹ پر انہوں نے ’سی اے جی ہیڈکواٹر‘ کی ہدایت پر دستخط کیے تھے۔

ان کا یہ بھی الزام ہے کہ سی اے جی کی ٹیم نے بی جے پی کے سینئر رہنما مرلی منہوہر جوشی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ مسٹر جوشی پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں اور اس وقت اپنی رپورٹ ترتیب دے رہے تھے۔

لیکن مسٹر جوشی کا کہنا ہے ’یہ الزامات سی اے جی اور پی اے سی کو بدنام کرنے کی منظم کوششوں کا حصہ ہیں۔ یہ دونوں ہی آئینی ادارے ہیں اور آپس میں تعاون کرتے رہتے ہیں۔‘

وزیر اعظم کے اس بیان کے فوراً بعد بی جے پی اور کانگریس میں الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی یہ خبر آئی تھی کہ سی اے نے پہلے صرف دو ہزار چھ سو پینتالیس کروڑ کے نقصان کی بات کہی تھی لیکن بعد میں یہ اعداد و شمار بدل دیے گئے تھے۔

مسٹر آر پی سنگھ بھی دو ہزار گیارہ میں ریٹائر ہوگئے تھے۔ اب کا اب کہنا ہے کہ: ٹیلی کام کی وزارت کا چارچ براہ راست میرے پاست تھا، آڈٹ پورا کرنے کے بعد میں نے رپورٹ کا تفصیلی مسودہ تیار کیا تھا ۔۔۔ اس میں نقصان کا کوئی تخمینہ شامل نہیں تھا۔‘

بعد میں سپریم کورٹ نے ایک سو بائیس لائسنس منسوخ کر دیے تھے جنہیں دوبارہ نیلام کرنے کا سلسلہ اب جاری ہے۔ لیکن نیلامی کے پہلے دور میں گزشتہ ہفتے حکومت صرف نو ہزار چار سو کروڑ روپے ہی حاصل کرسکی تھی جس کے بعد سے حکومت نے دوبارہ سی اے جی کو نشانہ بنانا شروع کردیا تھا۔

اے راجہ پر الزام تھا کہ انہوں نے منمانے طریقے سے اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو بیش قیمت سپیکٹرم الاٹ کر دیا تھا۔

من موہن سنگھ کے مطابق اپنی رپورٹ میں انہوں نے یہ ضرور لکھا تھا کہ جن لوگوں کو زیادہ سپیکٹرم الاٹ کیا گیا ہے ان سے سینتیس ہزار کروڑ روپے وصول کیے جاسکتے ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ خود سی اے جی کے اندر بھی نقصان کے تخمینے پر اختلافات تھے اور ادارے کے کام کاج کے طریقے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔