’بھارت کے جوہری پلانٹ محفوظ ترین ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 نومبر 2012 ,‭ 07:30 GMT 12:30 PST

جنوب بھارتی ریاست تامل ناڈو میں کودانکولام کے مقام پر بنائے جا رہے نئے جوہری پلانٹ کے خلاف ملک میں چند ہفتوں سے احتجاج جاری ہے

اقوام متحدہ کی جوہری تونائی کی نگراں تنظیم آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ بھارت کے ایٹمی ری ایکٹرز دنیا کے ’بہترین اور محفوظ ترین‘ ری ایکٹرز میں سے ہیں۔

آئی اے ای اے نے یہ بیان بھارت کے دو ایٹمی ری ایکٹرز کا معائنہ کرنے کے بعد دیا۔

ایٹمی معائنہ کاروں نے راجستھان ایٹمی پاور سٹیشن کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ یہ جاپان کے فوکوشیما ری ایکٹر جیسے حادثے کو برداشت کر سکتے ہیں۔

یہ پہلی بار ہے کہ بھارت نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ایٹمی ری ایکٹر کا معائنہ کرنے کی اجازت دی ہے۔

تاہم معائنہ کاروں کا کہنا تھا کہ پلانٹ کے آگ بجھانے کے نظام اور بجلی کی تاروں کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب چند بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر پرانے ری ایکٹرز پر حالات مختلف ہیں اور بھارت اقوام متحدہ کو ان ری ایکٹرز کی جانچ پڑتال کی بھی اجازت دے۔

ویئینا میں آئی اے ای اے کے آپریشنل سیفٹی کے سربراہ مائیروسلو لیپار کا کہنا تھا کہ ’بھارت ’ہائی گوبل سیفٹی رینک‘ (عالمی اہم حفاظتی درجہ بندی) میں فاتح کے طور پر ابھرا ہے۔‘

مائیروسلو لیپار آپریشنل سیفٹی ڈویژن کے بارہ رکنی وفد کی سربراہی کر رہے تھے جس نے بھارت میں ہی بنائے گئے دو سو بیس میگا واٹ تک پیداوار کی صلاحیت رکھنے والے راجستھان ایٹمی پاور سٹیشن کادورہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت ری ایکٹر محفوظ اور متاثر کن ہیں تاہم ان میں بہتری کی گنجائش ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پلانٹ کو ’روٹ کاز انیلسز‘ (بنیادی وجوہات کا تجزیہ) کا نظام لاگو کرنا چاہیے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں نہ صرف یہ بتایا جا سکے کہ کیا بلکہ یہ بھی معلوم کیا جا سکے کہ کیوں ہوا۔‘

معائنہ کاروں کے سربراہ نے بتایا کہ معائنہ کیے گئے دو ری ایکٹرز ’دنیا کے بہترین ری ایکٹرز میں سے ہیں اور ان میں کچھ مثبت لائحہ عمل کو اختیار کیا گیا ہے جن سے تمام دنیا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔‘

"تاراپور میں لگے دو چھوٹے یونٹ بالکل غحر محفوظ ہیں اور انھیں بہت عرصہ پہلے بند کر دیا جا چاہتے تھا۔ وہ ان جیسے ہی ری ایکٹرز ہیں جو کہ جاپان میں فوکوشیما حادثے میں یکے بعد دیگرے پھٹے۔"

جوہری تونائی کے نگراں ادارے کے سابق چیئرمین ڈاکٹر اے گوپالاکرشنن

پلانٹ میں رسائی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کو پلانٹ کے تمام حصوں میں جانے دیا گیا اور کوئی بھی حصہ ان سے پوشیدہ نہیں تھا۔

استعمال شدہ جوہری مواد کے اہم معاملے پر انھوں نے کہا کہ پلانٹ کا استعمال شدہ مواد کو ٹھکانے لگانے کا نظام معیار کے مطابق تھا اور ان کی ٹیم وہاں کام کرنے والوں کے مواد کو علیحدہ کرنے کے طریقے کار سے متاثر ہوئی۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت کو اقوام متحدہ کو تاراپور میں واقع اس کے پرانے ترین دو ری ایکٹرز کے معائنے کی بھی اجازت دینی چاہیے۔ یہ ری ایکٹر سنہ انیس سو انہتر میں امریکی کمپنی جنرل الیکٹریک نے تعمیر کیے تھے۔

بھارت میں جوہری توانائی کے نگراں ادارے کے سابق چیئرمین ڈاکٹر اے گوپالاکرشنن کا کہنا ہے کہ ’تاراپور میں لگے دو چھوٹے یونٹ بالکل غیر محفوظ ہیں اور انھیں بہت عرصہ پہلے بند کر دیا جانا چاہتے تھا۔ وہ ان جیسے ہی ری ایکٹرز ہیں جو کہ جاپان میں فوکوشیما حادثے میں یکے بعد دیگرے پھٹے۔‘

جنوب بھارتی ریاست تمل ناڈو میں کودانکولام کے مقام پر بنائے جا رہے نئے جوہری پلانٹ کے خلاف ملک میں چند ہفتوں سے احتجاج جاری ہے۔

یہ ری ایکٹر ایک ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے اور روس میں بنایا گیا ہے۔ تاہم مقامی لوگوں اور اس معاملے پر احتجاجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ غیر محفوظ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کی جانب سے تعریف کے بعد حکومت کو ملک کی جوہری تونائی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے مخالفین کو خاموش کرنے میں مدد ملے گی۔

بھارت آئندہ دو دہائیوں میں جوہری پیداواری صلاحیت تریسٹھ ہزار میگا واٹ تک لے جانا چاہتا ہے جبکہ اس وقت یہ چار ہزار آٹھ سو میگا واٹ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔