بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی قوم پرستی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 24 نومبر 2012 ,‭ 15:43 GMT 20:43 PST
بال ٹھاکرے

بال ٹھاکرے ایک قوم پرست و ہندو نظریاتی لیڈر تھے

گزشتہ ہفتے مہاراشٹر کے قوم پرست رہنما بال ٹھاکرے انتقال کرگئے۔ کئی دہائیوں سے وہ مہاراشٹر کی ہی نہیں ملک کی سیاست پر بھی اثر انداز تھے۔ پر تشدد مظاہرے، حملے اور ہنگامہ آرائی ان کے سیاسی طرز عمل اور سیاسی حکمت عملی کا ایک بنیادی پہلو تھا ۔ ان کی جماعت شیو سینا سیاست میں تشدد کی شمولیت کی بانی تھی۔

بال ٹھاکرے کی سیاست میں نفرت اور عدم رواداری کا بہت اہم رول تھا ۔ انہیں اپنے نطریات کے فروغ کے لیے کوئی نفرت کا عنصر تلاش کرنا لازمی تھا ۔ کبھی یہ نفرت تمل اور جنوبی ہند کے باشندوں کے خلاف تحریک کی شکل میں سامنے آتی تو کبھی اس کے نشانے پر ممبئی میں آباد بہاری باشندے ہوتے اورکبھی مسلمانوں کو ان کی نفرتوں کا شکار بننا پڑتا۔

شیو سینا کی سوچ بنیادی طور پر منفی رہی ہے۔ ان کی جماعت کا نام مراٹھا جنرل شیوا جی کے نام پر رکھا گیا تھا ۔ شیواجی مغل بادشاہ اورنگزیب کے ہم عصر تھے اور انہوں نے اورنگزیب کو کئی بار مقابلہ کیا تھا۔

اورنگزیب کو متعدد مورخوں نے ایک سخت گیر مسلم حکمراں کے طور پر پیش کیا ہے۔ شیواجی کو ایک ایسے ہندو راجہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے مغلیہ سلطنت سے ٹکر لی اور ہندو سلطنت قائم کی ۔ اگرچہ اس عہد میں بہت سے ایسے راجہ اور جنرل تھے جنہوں نے زوال پزیر مغلیہ سلطنت سے بغاوت کی اور اپنی آزاد ریاستیں قائم کیں لیکن شیواجی وقت کے ساتھ ساتھ ہندو قوم پرستی کی علا مت بن گئے ۔ جمہوری بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی شیوا جی کی ایک بڑی مورتی نصب ہے ۔

شیواجی بھارت کے ہزاروں راجوں مہاراجوں اور بادشاہوں کی طرح عہد وسطی کے محض ایک حکمراں تھے لیکن بھارت کو ایک جری اور بہادر جنرل کی تلاش تھی جس نے طاقتور مغل حکمرانوں کو بھی شکست اور جل دی ہو ۔شیواجی اس زمرے میں پورے اترتے تھے ۔آزاد اور جمہوری بھارت کے رہمنا گاندھی بھارت کی بہت بڑی آبادی کے آئیڈیل کبھی نہیں بن سکے کیونکہ بہت سے لوگ ان کے عدم تشدد کے فلسفے کو ہندوؤوں کی کمزوری سے تعبیر کرتے تھے ۔

وقت کے ساتھ ساتھ شیوا جی ایک ایسی محترم ، سیاسی اور مذہبی تشخص اختیار کر چکے ہیں کہ مہاراشٹر میں تین سو برس پرانے ان کے عہد کے کسی انتظامی پہلو پر تحقیقی نکتہ چینی اور بحث ومباحثہ بھی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے ۔

گزشتہ ہفتے جب تھانے کی ایک لڑکی نے فیس بک پر یہ پیغام بھیجا کہ بال ٹھاکرے کے انتقال پر دو دنوں کی ہڑتال کی کیا ضرور ت ہے تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاری شیو سینا کی اسی سوچ کے طرز پر کی گئی تھی جس میں اختلاف رائے اور رواداری کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ بال ٹھاکرے مراٹھا اور ہندو قوم پرستی کے علمبردار تھے اور قوم پرستی کے اس مقابلے میں کانگریس بھی پییچھے نہیں رہنا چاہتی۔

بھارت کی نئی نسل اپنی اکثریتی ثقافتی شناخت کو نمایاں طور پر اجاگر کرناچاہتی ہے ۔ مذہبی قوم پرستی اس عمل کا ایک پہلو ہے۔اس کے لیے اسے نت نئی علامتوں کی ضرورت ہے ۔

بھارت کی سیاست میں اسی لیے عدم روا داری، منفی سوچ اور نفرت کی سیاست کے باوجود ، بال ٹھاکرے نریندر مودی اور ایل کے اڈوانی جیسے مذہبی قوم پرست سیاستدانوں کو مقبولیت حاصل رہی ہے ۔ مستقبل قریب میں بھی قوم پرستی بھارت کی سیات پر غالب رہے گی۔ بھارت کا سیکولر سیاسی نظام اپنے وجود کے اب تک کے سب سے شدید دباؤ سے گزر رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔