’نہیں بھول سکتا ممبئی کا حملہ‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 19:28 GMT 00:28 PST
ممبئی حملے

2008 کےممبئی حملے میں ایک سو چھیاسٹھ لوگ مارے گئے تھے۔

ممبئی حملوں کو چار سال پورے ہو گئے ہیں، لیکن میرے دل و دماغ میں یہ حملہ آج بھی تازہ ہے۔

اس سے پہلے میں نے بھارت میں کئی حملوں کی رپورٹنگ کی تھی لیکن یہ ان سب سے الگ تھا۔

ممبئی کے پانچ جانے پہچانے مقامات پر ایک ساتھ حملے کرنا اور پھر تین دن تک پولیس اور سکیورٹی فورسز کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنا اس بات کا ثبوت تھا کہ اس کی منصوبہ بندی بہت سوچ سمجھ کر کی گئی تھی، ساتھ ہی یہ کہ ان مسلح افراد کو بہترین تربیت دی گئی تھی۔

تين دنوں تک جاری رہنے والے اس خونی کھیل کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔

مجھے یاد ہیں چھترپتی شیواجی ریلوے سٹیشن پر پڑی لاشیں، اور جنوبی ممبئی میں لوگوں کے چہروں پر دہشت اور خوف کو بھولنا آسان نہیں۔

میں ٹرائڈنٹ ہوٹل کے کمروں کی کھڑکیوں سے یرغمال بنے لوگوں کی جانب سے سفید رومال لہرا لہرا کر پولیس کو متوجہ کرنے کی کوششوں کو کبھی نہیں بھول سکتا۔

ممبئی حملے

ممبئی میں ہونے والا حملہ ساٹھ گھنٹے جاری رہا تھا۔

یا پھر تنكھيا خاندان کے اس دس سال کے بچے کا رد عمل جو تاج محل ہوٹل میں اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا تھا اور ہوٹل کے استقبالیہ کے قریب کھڑا مسلح افراد کو گولی چلاتے دیکھ رہا تھا۔ شاید اسے احساس ہوا ہو کہ وہ کوئی ویڈیو گیم دیکھ رہا ہے۔

میں یہ بھی نہیں بھول سکتا کہ جب میں نے ان حملوں کے دو گھنٹے بعد پولیس کے وائرلیس سیٹ پر سنا کہ انسدادِ دہشت گردی فورس کے چیف ہیمنت کرکرے سمیت پانچ پولیس والے ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسی شام سات بجے میں نے اپنے دفتر سے انہیں فون کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا وہ میٹنگ میں ہیں بعد میں فون کروں۔

کسے معلوم تھا کہ کچھ گھنٹوں بعد وہ اس دنیا میں نہیں رہیں گے؟

اس نازک اور سنگین صورت حال میں ہمارے دوست، ہمارے رشتہ دار اور ہمارے دفتر کے ساتھی ہمارے لیے بہت فکر مند تھے، یہ ہمیشہ یاد رہے گا۔

اگلے دن میں نے اپنے فون پر اور ای میل میں چار سو سے زیادہ میسجز خود پڑھے جو دنیا کے کئی ممالک سے بھیجے گئے تھے۔

ممبئی حملہ

ممبئی حملوں کے ایک ملزم کا مقدمہ امریکہ کے شکاگو شہر میں چل رہا ہے۔ گزشتہ سال جب مقدمہ شروع ہوا تھا تو میں وہاں موجود تھا۔

حملوں کے ایک اہم ملزم ڈیوڈ ہیڈلی امریکہ کی حراست میں تھے اور عدالت میں ایک سرکاری گواہ کی حیثیت سے پیش ہو کر اپنی گواہی دے رہے تھے۔

وہاں بھارتی حکومت کے الزامات کی اس وقت تصدیق ہو گئی جب ہیڈلی نے گواہی کے دوران کہا کہ اس سازش کے تار پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے ملتے ہیں۔

انہوں نے حملوں کی منصوبہ بندی کے کئی سال (دوہزار چھ سے) چلنے اور اس کا حصہ ہونے کی بات بھی قبول کی۔

گزشتہ دس سالوں میں نیو یارک، میڈرڈ، لندن اور بالی میں سب سے خطرناک دہشت گرد حملے ہوئے ہیں لیکن ممبئی حملے مسلسل تین دن تک جاری رہے اور ان کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔