اندر کمار گجرال، بھارت کے حادثاتی وزیر اعظم

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 30 نومبر 2012 ,‭ 13:06 GMT 18:06 PST
آئی کے گجرال

آئی کے گجرال نے اپنے لمبے کیریئر میں پڑوسیوں کا خاص خیال رکھا۔

بھارت کے سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال کا انتقال ہو گیا ہے ان کی عمر 92 برس تھی۔ ان کو 1997 میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر اس وقت فائز کیا گیا جب کانگریس نے یونائٹڈ فرنٹ کی مخلوط حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی اور وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گاؤڈا کی حکومت گر گئی۔

گجرال کی مفاہمتی صلاحیتوں کے باعث ان کی مخالفت نہیں ہوئی۔ اور گجرال نے اس عہدے کو بخوبی نبھایا۔

بغل گیر ہونے کی عادت

پنجاب سے تعلق رکھنے کے باعث وہ اپنی جپھیوں یعنی بغل گیر ہونے کے حوالے سے بڑے مشہور تھے۔ لیکن اسی وجہ سے وہ ایک بار اس وقت مشکل میں اس وقت پڑے جب عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد گجرال کی صدام حسین کے ساتھ بغل گیر ہوتے ہوئے تصویر آئی۔

ان کے وزیر اعظم کے گیارہ ماہ میں سامنے آنے والے ’گجرال کے نظریے‘ کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ انہوں نے اسی نظریے پر عملدرآمد بطور وزیر خارجہ بھی کیا۔ وہ 1989 سے 1990 اور پھر 1996 سے 1998 تک وزیر خارجہ کے منصب پر تعینات رہے۔

اس نظریے کے تحت انہوں نے بھارت کے اخراجات پر پڑوسی ملکوں کو مراعات دیں تاکہ ان سے تعلقات بہتر بنائے جا سکیں۔

تاہم گجرال کا یہ نظریہ پاکستان پر لاگو نہیں ہوتا تھا اور انہوں نے پاکستان کو کوئی مراعات نہیں دیں۔

پنجاب سے تعلق رکھنے کے باعث وہ اپنی جپھیوں یعنی بغل گیر ہونے کے حوالے سے بڑے مشہور تھے۔ لیکن اسی وجہ سے وہ ایک بار اس وقت مشکل میں پڑ گئے جب عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد گجرال کی صدام حسین کے ساتھ بغل گیر ہوتے ہوئے تصویر آئی۔

لیکن ’گجرال کا نظریہ‘ کامیاب نہیں رہا۔ بھارت کے چھوٹے ہمساؤں کا خیال تھا کہ جو بھی مراعات بھارت سے ملی ہیں وہ سفارتی کامیابی کا نتیجہ ہیں نہ کہ گجرال کا۔

اندر کمار گجرال مشکل سے مشکل صورتحال سے بخوبی نمٹنے کے لیے مشہور تھے۔ لیکن دیگر وزرائے اعظم کی طرح وہ بھی بھارت کے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے تھے۔

اسی لیے جب برطانوی وزیر خارجہ رابن کُک نے مسئلہ کشمیر پر مفاہمت کرانے کی پیشکش کی تو گجرال نے نے برطانیہ کو ’تھرڈ ریٹ پاور‘ قرار دیا۔انہوں نے قاہرہ میں مصری دانشوروں کے ساتھ نجی بات چیت میں کہا تھا ’برطانیہ ایک تھرّ ریٹ پاور ہے۔ اس نے جب ہندوستان تقسیم کیا تو کشمیر بنایا اور اب یہ ہمیں اس کا حل بتانا چاہتا ہے۔‘

’تھرڈ ریٹ پاور‘

دیگر وزرائے اعظم کی طرح وہ بھی بھارت کے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے تھے۔ اسی لیے جب برطانوی وزیر خارجہ رابن کُک نے مسئلہ کشمیر پر مفاہمت کرانے کی پیشکش کی تو گجرال نے نے برطانیہ کو ’تھرڈ ریٹ پاور‘ قرار دیا۔انہوں نے قاہرہ میں مصری دانشوروں کے ساتھ نجی بات چیت میں کہا تھا ’برطانیہ ایک تھرّ ریٹ پاور ہے۔ اس نے جب ہندوستان تقسیم کیا تو کشمیر بنایا اور اب یہ ہمیں اس کا حل بتایا چاہتا ہے۔‘

کانگریس سے ان کے دور ہونے کی شروعات ایمرجنسی کے دوران ہوئی۔ تب وہ اطلاعات و نشریات کے وزیر تھے۔ سنجے گاندھی حکومت میں کسی عہدے پر نہیں تھے اور انہوں نے گجرال کو فون کر کے حکم دیا کہ میڈیا سے کس طرح نمٹنا ہے۔گجرال چپ رہنے والے نہیں تھے اور انہوں نے سنجے گاندھی کو پلٹ کر جواب دیا کہ وہ صرف وزیر اعظم کو جوابدہ ہیں۔

اندرا گاندھی نے گجرال کو پہلے پلاننگ کمیشن میں روانہ کردیا اور پھر بھارت کا سفیر بنا کر روس بھیج دیا۔

سنہ 1980 میں انہوں نے کانگریس چھوڑ کر جنتا دل میں شمولیت اختیار کی۔

اندر کمار گجرال کو اس وقت اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا جب کانگریس نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کی رپورٹ پر حمایت واپس لے لی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یونائیٹڈ فرنٹ کی ایک حمائتی جماعت نے سری لنکا کے تمل ٹائیگرز کی حمایت کی۔ تمل ٹائیگرز پر راجیو گاندھی کو قتل کرنے کا الزام دیا جاتا ہے۔

ادر کمار گجرال چار دسمبر 1919 میں جہلم میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے طالب علمی کے زمانے میں کمیونسٹ پارٹی کے رکن کے طور پر سیاست میں حصہ لیا لیکن بعد میں کانگریس جماعت میں شامل ہوئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔