سیاست پر امیروں کی اجارہ داری ختم

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 14:15 GMT 19:15 PST

اروندکیجری وال کی جماعت کا نام عام آدمی پارٹی ہے

بھارت کے معاشرے اور سیاست پر ابتداء سے ہی تقریبا چار ہزار برس سے ملک کے متمول طبقے کی مکمل حکمرانی رہی ہے اور بھارت کی آزادی کی تحریک جب شروع ہوئی اس وقت ملک کی سیاست میں زوال پذیر شاہی نظام کے جاگیرداروں کا غلبہ تھا۔

یہی وہ طبقہ تھا جس نے اپنی دولت کے سہارے جدید تعلیم حاصل کی اور سیاست کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی غلبہ حاصل کیا۔ ملک نے جب آزادی حاصل کی تو یہی طبقہ ایک بار پھر زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہوگیا۔

گزشتہ ساٹھ برس میں بڑے بڑے جاگیرداروں، راجوں اور رجواڑوں کی طاقت کا محور زمین نہیں بلکہ ملک کی سیاست رہی ہے۔ جاگیردارانہ نظام ختم ہوئے ایک زمانہ ہو چکا ہے لیکن ملک کا سیاسی نظام ایک نئی جاگیر کی شکل میں نمودار ہوا اور ملک کے متمول طبقہ اس نئی جاگیر کا جاگیردار ٹھہرا۔

گزشتہ ساٹھ برس سے یہی طبقہ بھارت کے عوام کے سارے فیصلے کرتا رہا ہے اور بھارتی جمہوریت بھی ایک طرح کی جاگیر بن گئی۔

گزشتہ ساٹھ برس کے دوران بھارت کی عوام یہی سمجھتی رہی کہ جمہوریت کا مطلب پانچ برس میں ایک بار ووٹ دینا ہے۔ حکمراں سیاسی جماعتوں کے رہمنا اور رکن پارلیمان جمہوری بھارت میں نئے بادشاہ کی شکل اختیار کرگئے۔

پچھلے دنوں اروند کیجریوال اور ان کے ساتھیوں نے پارلیمنٹ کے دروازے پر جب ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کا اعلان کیا تو ملک کی موجودہ سیاسی جماعتوں کو بہت تکلیف پہنچی۔

اس نئی جماعت کے بارے میں یہ کہا گیا کہ یہ بھارت کے ان اسّی فیصد عوام کی جماعت ہو گی جنہیں عام آدمی کہا جاتا ہے اور جس کا بھارت کی سیاست اور فیصلہ سازی میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس نئی جماعت کا نام عام آدمی پارٹی رکھا گیا۔ یہ جماعت بھارت کی مستقبل کی سیاست پر یقینا اثر انداز ہوگی۔

"انا ہزارے اور کیجریوال کی تحریک سیاسی تغیر میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ملک کی قومی سیاسی جماعتوں کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی اور سیاست میں سبھی طبقوں کو نمائندگی نہ دی تو مستقبل کی سیاست میں ان کا کرداد محدود ہوتا جائےگا۔ فی ا لحال ان جماعتوں کی سوچ میں کسی تبدیلی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ اسی لیے کیجریوال کی نئی جماعت مستقبل کی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گی۔"

ملک کی سیاسی جماعتیں اپنی جاگیردارانہ روش اور پرانی سوچ کے سبب اب فرسودہ ہو چکی ہیں۔ وہ عوام سے پوری طرح کٹی ہو ئی ہیں۔ سیاست میں ایک بڑی تعداد ایسے رہنماؤں کی ہے جو ذاتی دولت اور طاقت کے حصول کے لیے سیاست میں داخل ہوئے۔

عوام اب ان رہنماؤں سے ہی نہیں ملک کے پورے سیاسی نظام سے بدظن ہوتی جارہی ہے۔ غریب امیر سبھی بدعنوانی، بد انتظامی، نا اہلی اور سست روی سے تنگ آچکے ہیں۔ لوگ اب ایک مثبت اور جامع تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ انہیں بھی ایک تحریر سکوائر کی تلاش ہے۔

بھارت کی پارلیمنٹ کا بیشتر اجلاس حکمراں جماعتوں اور حزب اختلاف کے درمیان ان سوالوں پر اختلاف رائے سے نہیں چل پاتا کہ کس موضوع پر بحث کون سے ضابطے کے تحت کی جائے۔ اور جب بحث ہو تی بھی ہے تو اکثر بہت اہم سوالوں پر ارکان کی نشستیں خالی ہوتی ہیں۔

بھارت کا سیاسی نظام اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جس کے بارے خود ملک کی سیاسی جماعتیں بے یقینی میں مبتلا ہیں۔ بڑی بڑی جماعتیں اندورنی افراتفری اور رسہ کشی کا شکار ہیں۔

انا ہزارے اور کیجریوال کی تحریک اس سیاسی تغیر میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ملک کی قومی سیاسی جماعتوں کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی اور سیاست میں سبھی طبقوں کو نمائندگی نہ دی تو مستقبل کی سیاست میں ان کا کرداد محدود ہوتا جائےگا۔ فی ا لحال ان جماعتوں کی سوچ میں کسی تبدیلی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

اسی لیے کیجریوال کی نئی جماعت مستقبل کی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔