بابری مسجد سانحہء بیس برس بعد بھی ملزم آزاد

آخری وقت اشاعت:  پير 3 دسمبر 2012 ,‭ 15:43 GMT 20:43 PST
بابری مسجد

چھ دسمبر سنہ بانوے کو ہندوں نے تاریخي بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا

بھارت کے شہر ایودھیا میں چھ دسمبر سنہ انیس سو بانوے کو بابری مسجد کو مسمار کرنے کے سلسلے میں انچاس افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے جوگزشتہ بیس برسوں سے قانونی داؤ پیچ اور عدالتوں کی پیچیدگیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں انچاس میں سے بائیس ملزمان پر لکھنؤ اور آٹھ پر رائے بریلی کی عدالت میں مقدمے چل رہے ہیں لیکن اس کے نو ملزم ایسے ہیں جن پر کہیں بھی مقدمہ نہیں چل رہا جبکہ اس دوران دس ملزمان اور تقریباً پچاس گواہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس بات کا فیصلہ اب بھارتی سپریم کورٹ کو کرنا ہے کہ ان باقی ملزمان پر مقدمہ کس عدالت میں چلے گا۔ اتفاق سے سپریم کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت چھ دسمبر کو ہی ہونا ہے۔

اس مقدمے کے ملزم، گواہ اور پیروکار بھی اتنے بوڑھے اور کمزور ہو چلے ہیں کہ انہیں لکھنؤ میں خصوصی عدالت کی تیسری منزل پر چڑھنے میں بھی مشکل ہوتی ہے۔

تھانہ رام جنم بھومی، ایودھیا کے انچارج پي این چرن شکل نے کیس نمبر ایک سو ستانوے چھ دسمبر سنہ انیس سو بانوے کو بابری مسجد کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہونے کے بعد شام پانچ بج کر پندرہ منٹ پر لاکھوں نامعلوم افرا کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

اس مقدمے میں بابری مسجد کو ڈھانے کی سازش، مارپیٹ اور ڈکیتی شامل ہے۔ یہ مقدمہ لکھنؤ میں چل رہا ہے، جس میں اب تک چھیاسی گواہ پیش ہو چکے ہیں۔

اڈوانی، اشوک سنگھل اور کلیان سے اس کے اصل ملزم ہیں لیکن ابھی ان کے خلاف مقدمہ باقاعدہ شروع بھی نہیں ہوا ہے

ایک اور پولیس افسر گنگا پرساد تیواری نے کیس نمبر ایک سو اٹھانوے، آٹھ افراد کے خلاف رام کتھا كج سبھا پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے والا خطاب دینے اور بابری مسجد گروانے کا مقدمہ درج کیا تھا۔

اس کیس میں نامزد ملزمان میں اشوک سنگھل، گری راج کشور، لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، وشنو ہری ڈالمیا، ونے کٹیار، اوما بھارتی اور سادھوی رتبھرا شامل ہیں اور یہ مقدمہ رائے بریلی کی عدالت میں چل رہا ہے۔ اس میں اب تک تیس گواہ پیش ہوئے ہیں۔

اسی مقدمے کی بنیاد پر پولیس نے آٹھ دسمبر سنہ انیس سو بانوے کو اڈوانی اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کیا تھا۔ امن و امان بگرنے کے ڈر سے انہیں للت پور میں ماتاٹيلا باندھ کے گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا تھا۔

اس مقدمے کی تفتیش اتر پردیش پولیس کی سی آئی ڈی کرائم برانچ نے کی تھی۔ سی آئی ڈی نے فروری سنہ انیس سو ترانوے میں آٹھوں ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ مقدمے کے ٹرائل کے لیے للت پور میں خصوصی عدالت قائم کی گئی اور بعد میں ٹریفک کی سہولت کے لیے یہ عدالت رائے بریلی ٹرانسفر کر دی گئی۔

بابری مسجد مسمار کرنے کے بعد وہاں یہ مندر تعمیر کر دیا گيا جس کی سخت حفاظت کی جاتی ہے

کرائم نمبر 198 میں اڈوانی سمیت صرف آٹھ ملزم نامزد تھے لیکن جج نے اس میں تیرہ اور ملزمان کو شامل کر کے اکیس ملزمان کے خلاف ٹرائل روک دیا۔ جج نے جن دیگر تیرہ افراد کو کرائم نمبر 198 میں شامل کیا تھا اس میں ریاست کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ اور شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے شامل ہیں جن کا حال ہی میں انتقال ہوا۔

اس وقت لکھنؤ اور دہلی دونوں جگہ بی جے پی کی حکومتیں تھیں۔ اڈوانی خود وزیر داخلہ تھے۔ مقدمہ شروع ہوا لیکن سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ ونود کمار سنگھ نے انیس ستمبر سنہ دو ہزار تین کو اڈوانی کو بری کرتے ہوئے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی اور اشوک سنگھل سمیت صرف سات ملزمان کے خلاف الزامات کا تعین کر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔

اس حکم کے خلاف بھی ہائی کورٹ میں اپیل ہوئی اور دو سال بعد چھ جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ پہلی نظر میں تمام آٹھ ملزمان کے خلاف مقدمہ بنتا ہے اسی لیے اڈوانی کو بری کرنا ٹھیک نہیں۔ اس طرح اڈوانی سمیت آٹھ افراد پر رائے بریلی کی عدالت میں مقدمہ بحال ہوا لیکن یہ عدالتی عمل کا المیہ ہے کہ ان تیرہ ملزمان کا ٹرائل کہیں نہیں ہو رہا ہے۔

بابری مسجد کے انہدام کے بیس برس بعد بھی عدالتی کارروائی بس یوں ہی جاری ہے

سی بی آئی کا کہنا ہے کہ اڈوانی اور دوسرے سات افراد مقدمہ نمبر ایک سو ستانوے کے تحت مسجد گرانے کی سازش کے مجرم ہیں۔ اس لیے ان پر رائے بریلی کے علاوہ لکھنؤ کورٹ میں بھی مقدمہ چلنا چاہئے لیکن سی بی آئی نے اس کے لیے لکھنؤ کورٹ میں کوئی اضافی چارج شیٹ داخل نہیں کی۔

دس سال بعد بیس مئی سنہ دو ہزار دس کو ہائی کورٹ کے جسٹس اے کے سنگھ نے سی بی آئی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے سپیشل کورٹ لکھنؤ کے ذریعہ کیس نمبر ایک سو اٹھانوے میں اڈوانی، کلیان سنگھ اور ٹھاکرے سمیت اکیس ملزمان کے خلاف مقدمہ بند کرنے کے حکم کو صحیح قرار دیا۔

سی بی آئی نے نو فروری سنہ دو ہزار گیارہ کو سپریم کورٹ میں اپیل کر کے مطالبہ کیا کہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو مسترد کرتے ہوئے اڈوانی سمیت اکیس ملزمان کے خلاف بابری مسجد گرانے کی سازش اور دیگر دفعات میں مقدمہ چلایا جائے لیکن ابھی اس اپیل پر سماعت شروع ہونی ہے۔

مقدمہ چلنے کے بعد ناکافی ثبوت کے فقدان کی وجہ سے ملزم چھوٹ جائیں، وہ الگ بات ہے لیکن ابھی یہی نہیں طے ہو پا رہا ہے کہ کس ملزم کے خلاف کس کس سیکشن میں کہاں مقدمہ چلائے گا۔.

اب ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے کون پوچھے گا کہ عدالتوں میں یہ دیر اندیھر نہیں تو اور کیا ہے؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔