عمرقید سزائیں: کشمیر میں احتجاجی مہم

آخری وقت اشاعت:  پير 3 دسمبر 2012 ,‭ 15:53 GMT 20:53 PST

کشمیریوں کو عمرقید کی سزائیں سنانے کے رجحان کو کشمیر کے علیٰحدگی پسند رہنما محمد یٰسین ملک نے کشمیر میں قیام امن کے لئے خطرہ قرار دیا۔

پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران مختلف بھارتی جیلوں میں قید کم از کم بیس کشمیریوں کو عمرقید کی سزائیں سنائی گئیں اور اس رجحان کو کشمیر کے علیٰحدگی پسند رہنما محمد یٰسین ملک نے کشمیر میں قیام امن کے لئے خطرہ قرار دیا۔

جموں کشمیر کی ایک عدالت نے آج مزید دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا سنائی تو سرینگر کے بعض مقامات پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔

لبریشن فرنٹ کے رہنما یٰسین ملک کا کہنا ہے کہ سولہ سے بیس برس کی قید کاٹنے کے بعد کشمیریوں کو عمرقید کی سزائیں سنانے سے کشمیر میں بدامنی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس معاملے پر انہوں نے اس پالیسی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یاسین ملک نے بتایا ’میرا حکومت ہند سے ایک سوال ہے کہ اگر بیس یا بائیس سال سے لڑکے قید میں ہیں۔ آج اچانک بھارتی عدالتوں کو کیوں خیال آیا کہ انہیں عمر قید کی سزا سنائی جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کہ پچھلے تین سال کے دوران لوگوں نے اپنی سیاسی آرزؤں کا اظہار پرامن تحریک چلاکر کیا، ’لیکن اس کا صلہ ہمیں پابندیوں، قدغنوں اور عمرقید کی سزاؤں کی صورت میں دیا جارہا ہے۔‘

بھارت اور پاکستان کے بعض میڈیا اداروں کی طرف سے ہندوپاک دوستی کے لئے چلائی گئی مہم ’امن کی آشا‘ کا ذکر کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ جو بھی لوگ یہ مہم چلا رہے ہیں انہیں عمرقید کی سزائیں سنانے کے تازہ رجحان کا جائزہ لینا چاہیئے۔ ’کیا یہ کشمیرمیں ایک نئی آگ بھڑکانے کا انتظام ہے۔؟‘

"میرا حکومت ہند سے ایک سوال ہے کہ اگر بیس یا بائیس سال سے لڑکے قید میں ہیں۔ آج اچانک بھارتی عدالتوں کو کیوں خیال آیا کہ انہیں عمر قید کی سزا سنائی جائے۔"

یاسین ملک

یاسین ملک نے بتایا کہ جمعہ سے وہ ان عدالتی فیصلوں کے خلاف جیل بھرو تحریک چلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو ہزار دس میں لاکھوں لوگوں نے پرامن تحریک چلا کر تشدد سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے عوض انہیں قدغنوں اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رجحان جاری رہا تو کشمیرمیں ایک نئی شورش برپا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے دس دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعہ پر کشمیر میں عام ہڑتال کی اپیل کی۔

واضح رہے جموں کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں سینکڑوں کشمیری قید ہیں جنہیں مختلف الزامات کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں ان کیسوں کی سماعت برسوں تک نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ بیس سالہ قید کے بعد عدالتوں نے اب عمرقید کے فیصلے سنانا شروع کیے ہیں۔

قابل زکر ہے کہ نئی دلّی میں بم دھماکوں کی سازش کے الزام میں سولہ سال قبل گرفتارکئے گئے کئی کشمیری نوجوانوں کو دلّی کی عدالت نے بے قصور قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔