امریکہ میں مودی کو ویزا دینے کی مخالفت

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 13:16 GMT 18:16 PST

مسلم مخالف فسادات کے لیے مودی پر نکتہ چینی ہوتی رہی ہے

امریکی ایوان نمائندگان کے کئی اراکین نے وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو ویزا نہ دینے کی پالیسی کو برقرار رکھنے کی سفارش کی ہے۔

امریکی کانگریس کے پچیس ارکان نے اس سلسلے میں ہلیری کلنٹن کو خط لکھا ہے۔

دو ہزار دو میں ریاست گجرات کے مسلم مخالف فسادات کے دوران نریندر مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔ ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کر دیا گيا تھا۔

مودی پر ان فسادات میں ملوث ہونے کے الزام لگتے رہے ہیں اور کئي حلقے یہ کہتے رہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ نے دانستہ طور پر مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت نہیں کی تھی۔

اسی دور سے انھیں امریکہ نے ویزا جاری نہیں کیا ہے اور امریکی کانگریس کے ارکان نے کہا کہ چونکہ فسادات کے تعلق سے انصاف کا عمل غیر اطمینان بخش ہے اس لیے امریکہ کو ویزا نہ جاری کرنے کی اپنی پالیسی پر عمل پیرا رہنا چاہیے۔

ان ارکان نے وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے نام خط میں لکھا ہے ’چونکہ فسادات کے متاثرین کو اب بھی انصاف ملنا باقی ہے اس لیے ہم آپ سے انہیں ویزا مسترد کرنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے کہتے ہیں۔‘

یہ خط انتیس دسمبر کو تحریر کر کے امریکی وزیرِ خارجہ کو سونپا گيا تھا جسے میڈیا میں گزشتہ روز جاری کیاگيا۔

"چونکہ فسادات کے متاثرین کو اب بھی انصاف ملنا باقی ہے اس لیے ہم آپ سے انہیں ویزا مسترد کرنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے کہتے ہیں۔"

کانگریس کے رکن جو پٹ اور فرینک اولف نے گجرات فسادات سے متاثرہ افراد کے بعض اہل خانہ کے ساتھ واشنگٹن میں کیپٹل ہل بلڈنگ میں پریس کو اس کی تفصیلات بتائیں۔

گجرات میں اس ماہ اسمبلی کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں جس کے لیے تیرہ دسمبر اور سترہ دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

اسمبلی انتخابات کے لیے اس وقت انتخابی مہم زوروں پر ہے اور وزیراعلیٰ نریندر مودی تیسری بار قسمت آزمائي کر رہے ہیں۔

امریکی کانگریس کے ارکان نے کہا کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ ایک بار پھر اعلیٰ عہدے کے کوششوں میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا، ’ہمیں یقین ہے کہ ویزے کے لیے ان کی درخواست سے متعلق پالیسی میں تبدیلی انصاف کے لیے جاری تفتیش میں رخنہ ڈالنے کی مودی اور ان کی حکومت کی کوششوں کو تحفظ فراہم کرے گی۔‘

نریندر مودی کا تعلق اپوزيشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے اور پارٹی انھیں آئندہ عام انتخابات سے پہلے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکی کانگریس کے ارکان کا کہنا تھا کہ بھارت ترقی کرتی ہوئی جمہوریہ ہے اور وہ پیش رفت کے لیے اعلیٰ معیار کی قیادت کا متمنی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ تکلیف دہ بات ہے کہ بھارت کی بعض سیاسی جماعتیں مودی کا نام پیش کر رہی ہیں باوجود اس کے کہ ان کا حملوں سے تعلق رہا ہے۔ امریکہ میں داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ انھیں فسادات میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی ذمے داریوں سے دامن بچانے اور چھٹکارا دلانے کا ہی فائدہ پہنچائے گا۔‘

اس سے قبل اسی برس اپریل میں امریکہ نے کہا تھا کہ بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو ویزا جاری کرنے سے متعلق اس کی پرانی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

امریکہ نے دو ہزار پانچ میں مودی کو ویزا نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور تب سے اس کی یہی پالیسی رہی ہے۔

لیکن حال ہی میں بھارت میں برطانیہ کے سفیر نے نریندر مودی سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ برطانیہ ریاست کی معاشی ترقی سے دور نہیں رہنا چاہتا۔

امریکہ میں مقیم بھارتی مسلمانوں نے بھی وزارت خارجہ سے اپیل کی تھی کہ وہ مودی کو ویزا جاری کرنے سے متعلق اپنی پالیسی میں کوئي تبدیلی نہ کرے۔

امریکہ میں ریاست گجرات کے بھی بہت سے لوگ آباد ہیں اور ان کی اپنی تنظیمیں ہیں جو مودی کو تقریباً ہر برس آنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں لیکن نریندر مودی کے پاس امریکہ کا ویزا نہیں ہے۔

مودی ایسے مواقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے تقاریب سے خطاب کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔