ایف ڈی آئی: راجیہ سبھا میں حکومت کی جیت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 13:32 GMT 18:32 PST
ملائم سنگھ یادو

حکومت کو ایف ڈی آئی پر حمایت کے لیے بڑی کوشش کرنی پڑی

ریٹیل سیکٹر یعنی خوردہ بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کے معاملے پر کئی روز کی ہنگامہ آرائي اور بحث کے بعد اپوزيشن کی تحریک پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں ناکام ہوگئي ہے۔

جمعہ کو ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں اس مسئلے پر حکمراں جماعت اور اپوزيشن کی طرف سے زبردست بحث دیکھنے کو ملی اور پھر ووٹ ڈالے گئے۔

اپوزيشن جماعتوں کی تحریک کے حق میں ایک سو نو جبکہ حکومت کے حق میں ایک سو تیئس ووٹ پڑے۔

حکومت کی کامیابی میں اہم کردار بہوجن سماجی پارٹی نے ادا کیا جس نے آخری وقت میں واک آؤٹ کی بجائے ووٹ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں بہوجن سماج پارٹی نے ایف ڈی آئی کی مخالفت کی تھی اور ووٹ کاسٹ کرنے کے بجائے واک آؤٹ کیا تھا لیکن راجیہ سبھا میں وہ اگر ایسا کرتی تو حکومت مشکل میں پھنس سکتی تھی۔

چنانچہ حکومت نے انہیں ووٹ کے لیے راضی کیا اور راجیہ سبھا میں بی ایس پی نے ایف ڈی آئی کی حمایت کر کے اپنے قیمتی پندرہ ووٹوں سے حکومت کی لاج رکھ لی۔

دونوں ایوانوں پر تقریبا تین روز تک یہ مسئلہ حاوی رہا اور جمعہ کو راجیہ سبھا میں ووٹنگ کے بعد بلآخر یہ ہنگامہ آرائي بھی اپنے اختتام کو پہنچي۔

ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنما شسما سوراج نے منگل کو یہ پیش کش رکھی تھی کہ حکومت کو ریٹیل سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کے فیصلے کو واپس لینا چاہیے اور پارلیمان پر اس مسئلے پر ووٹنگ ہونی چاہیے۔

لوک سبھا میں اس معاملے پر ووٹنگ میں دو سو اٹھارہ ارکان پارلیمان نے حزب اختلاف کے موقف کی حمایت جبکہ دو سو ترپن ممبران نے مخالفت کی تھی۔

"ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں بہوجن سماج پارٹی نے ایف ڈی آئی کی مخالفت کی تھی اور ووٹ کاسٹ کرنے کے بجائے واک آؤٹ کیا تھا لیکن راجیہ سبھا میں وہ اگر ایسا کرتی تو حکومت مشکل میں پھنس سکتی تھی۔ لیکن راجیہ سبھا اس نے ایف ڈی آئی کی حمایت کرکے اپنے قیمتی پندرہ ووٹوں سے حکومت کی لاج رکھ لی۔"

حکومت کی اتحادی جماعتیں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے ووٹنگ سے پہلے پارلیمان سے واک آؤٹ کیا تھا۔

حکومت کی بعض اتحادی جماعتیں ریٹیل سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کی شروع سے مخالفت کرتی رہی تھیں۔ اسی مسئلے پر ممتا بینرجی کی جماعت ترنمول کانگریس حکومت سے علیحدہ ہوگئی تھی۔

حکومت کی اتحادی ڈی ایم کے بھی اس کی حامی نہیں تھی اسی لیے حکومت اس پر ووٹ سے بچتی رہی تھی لیکن اپوزیشن کے زبردست دباؤ میں وہ ووٹ کے لیے تیار ہوئي۔

کانگریس پارٹی نے وقت کے ساتھ اپنے سبھی اتحادیوں کو بھی راضی کرلیا اور کہا کہ اس پر اس کی شکست کا مطلب یہ ہوگا کہ اقتصادی اصلاحات کی سمت میں دیگر اقدم بہت مشکل ہو جائیں گے۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ ایوان میں حکومت کامیاب تو ہوگئی ہے لیکن اس بحث سے صاف ظاہر ہے کہ پارلیمان میں اس کے بہت حامی نہیں ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔