بھارتی جمہوریت پر بابری مسجد کا کلنک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 دسمبر 2012 ,‭ 15:55 GMT 20:55 PST

بابری مسجد کو ہندوں نے مسمار کر دیا تھا

ایودھیا کی بابری مسجد کے انہدام کے بیس برس ہو چکے ہیں۔ پانچ سو برس پرانی اس مسجد کی جگہ ایک عارضی مندر بنا ہوا ہے۔ اس کے اطراف کی تقریبا ستر ایکڑ زمین بھی حکومت نے ان کے مالکان سے لے لی ہے۔

اس اراضی میں کئی دیگر مساجد بھی ہیں اور قبرستان بھی۔ ان تک مسلمانوں کی رسائی نہیں ہے۔ عارضی رام مندر میں درشن کے لیے ہر روز ہزاروں ہندو عقیدت مند آتے ہیں۔ پورے احاطے کی سیکیورٹی پر ہر روز پچیس لاکھ روپے سے زیادہ صرف کیے جاتے ہیں۔

منہدم بابری مسجد کے اطراف کا پورا احاطہ آہنی سلاخوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔ اوپر خاردار تار لگے ہوئے ہیں۔ ان آہنی سلاخوں سے محض دو سو گز کی دوری پر محمد ہاشم انصاری کا مکان ہے۔

وہ بانوے برس کے ہیں اور شاید تنہا ایسے حیات شخص ہیں جنہوں نے 1949 میں بابری مسجد میں مورتی رکھے جانے اور اس پر تالہ لگائے جانے سے قبل اس مسجد میں آخری نماز پڑھی تھی۔ ہاشم انصاری اکثر ان آہنی سلاخوں کی طرف خالی خالی نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں۔

بیس برس گزرنے کے بعد ابھی تک ان بڑے بڑے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ اب تک نہیں شروع ہوا ہے جو مبینہ طور پر مسجد کے انہدام کے لیے ذمے دار تھے۔

شیو سینا کے رہنما بال ٹھاکرے جو مسجد گرانے والوں پر اعلانیہ فخر کا اظہارکیا کرتے تھے اور جن پر مسجدکے انہدام کے بعد مسم مخالف فسادات بھڑکانےکا الزام تھا، ان کے انتقال پر ان کی آخری رسوم قومی پرچم میں لپیٹ کر اور پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔

اس مدت میں ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر ایک عالیشان رام مندر تعمیر کرنے کے لیے مندر کے در و دیوار، ستون اور مورتیاں سبھی کچھ تیار کر لی گئی ہیں۔

بابری مسجد کو مسجد سے مندر میں تبدیل کرنے کے سارے فیصلے انتظامیہ، حکومت اور عدالتوں نے کیے ہیں۔ 1949 میں مورتی رکھنے سے لے کر 1992 میں مسجد کے انہدام تک سارے فیصلے مسلم فریقوں کے خلاف کیےگئے۔

بابری مسجد کی جگہ یہ مندر تعمیر ہے جس کے تحفظ پر کروڑوں روپے خرج کیے جاتے ہیں

آزاد ہندوستان میں بابری مسجد کو رام مندر میں بدلنے کی تحریک کے ابتدائی دنوں میں کانگریس کی ریاستی حکومت اور فیض آبا د کی مقامی انتظامیہ کا اہم کردار تھا۔ لیکن انہدام سے قبل مندر کی تحریک بی جے پی کے ہاتھوں میں تھی۔

بی جے پی کے کے رہنما ایل کے اڈوانی نے جب رام مندر کی تحریک شرع کی تو بابری مسجد کو بھارتی قوم کے لیے شرم کی علامت قرار دیا تھا، کیونکہ یہ بقول ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش کے مقام پر تعمیر کی گئی تھی۔

بھارت کی سیکیولر جمہوریت میں مندر کی تعمیر ایک سیاسی جماعت کا نصب العین بن گئی۔

بی جے پی اقتدار میں آئی لیکن پوری اکثریت نہ ملنے کے سبب اپنے ہندوتوا کے ایجنڈے پر عمل نہ کر سکی۔ پارٹی کے سیاسی نظریات وہی ہیں جو مندر کی تحریک سے پہلے اور تحریک کے دوران تھے۔ بی جے پی بنیادی طور پر مذہبی نظریات کی حامل ایک ایسی جماعت ہے جو بھارت میں ایک ایسی جمہوریت کا تصور لے کر چل رہی ہے جس کی بنیاد ہندوتوا پر قائم ہو۔

کانگریس میں بھی اس سیاسی تصور کے حامی ہر دور میں رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک غلبہ ایسے لوگوں کا رہا ہے جو سیاست کو مذہب سے الگ رکھنے میں یقین رکھتے ہیں۔ بھارت کی عدلیہ بھی اسی سیکیولر تصور کاایک اہم ادارہ ہے۔ بابری مسجد کا آخری فیصلہ بھی عدالت عظمیٰ میں ہی ہونا ہے۔

بابری مسجد ایک مذہبی تنازع نہیں بلکہ ایک نظریاتی سوال ہے۔ اسی لیے اپنا وجود کھونے کے باوجود وہ بھارت کی سیکیولر جمہوریت کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔