’بھارتی آسانی سے بہکاوے میں آتے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 دسمبر 2012 ,‭ 09:20 GMT 14:20 PST
ماركنڈے كاٹجو

جسٹس کاٹجو بھارت میں پریس کی آزادی اور مذہبی منافرت کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں

پریس کاؤنسل آف انڈیا کے موجودہ صدر اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ماركنڈے كاٹجو نے کہا ہے کہ نوئے فیصد بھارتی احمق ہوتے ہیں جو مذہب کے نام پر آسانی سے بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جسٹس كاٹجو نے ایک سیمینار کے دوران کہا ’میں کہتا ہوں کہ نوے فیصد بھارتی بیوقوف ہیں۔ ان کے سر میں دماغ نہیں ہوتا۔ انہیں آسانی سے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔‘

جسٹس كاٹجو نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صرف دو ہزار روپے دے کر دلی میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑكائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فسادات بھڑکانے کے لیے کسی مذہبی مقام پر محض شرارت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بعد لوگ لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

جسٹس كاٹجو نے کہنا تھا ’اس کے بعد پاگل لوگ آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے شر پسند عناصر ہیں۔‘

"میں کہتا ہوں کہ نوے فیصد بھارتی بیوقوف ہیں۔ ان کے سر میں دماغ نہیں ہوتا۔ انہیں آسانی سے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔"

مسٹر کٹجو کے مطابق سنہ 1857 سے قبل ملک میں فرقہ واریت نہیں تھی لیکن اب صورتحال مختلف ہے اور ملک کے اسّی فیصد ہندو اور مسلمان فرقہ پرست ہیں۔

پریس کونسل کے سربراہ نے کہا کہ اس معاملے میں گزشتہ 150 برسوں میں ہندوستانی آگے کے بجائے پیچھےگئے ہیں کیونکہ انگریزوں نے مسلسل فرقہ پرستی کا زہر گھولا۔

جسٹس كاٹجو کے مطابق برطانوی پالیسی یہ تھی کہ بھارت میں حکومت کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہندؤں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑايا جائے۔

پی ٹی آئی کے مطابق جسٹس كاٹجو نے کہا کہ یہ ایک پروپیگنڈہ تھا کہ ہندی ہندؤں کی زبان ہے اور اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔

انہوں نے کہا ’ہمارے بزرگوں نے بھی اردو زبان پڑھی ہے، لیکن آپ کو بیوقوف بنانا کتنا آسان ہے۔‘

مسٹر كاٹجو نے کہا کہ وہ یہ تلخ باتیں اس لیے کہہ رہے ہیں تاکہ ہندوستانیوں کو پورے کھیل کا پتہ چلے اور وہ بیوقوف نہ بنے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔