انسانی حقوق کے عالمی دن پر کشمیری انصاف کے منتظر

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 دسمبر 2012 ,‭ 18:13 GMT 23:13 PST

کشمیری خواتین برسوں سے اپنے خاوندوں کی منتظر ہیں

اڑتالیس سالہ مسعودہ پروین کے خاوند ایڈوکیٹ غلام محی الدّین کو اُنیس سو بانوے میں فوج اور پولیس نے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ مسعودہ کو تب سے اپنے خاوند کا انتظار ہے۔

کئی برس بعد انہیں بتایا گیا کہ وہ بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے، لیکن وہ کہتی ہیں کہ انہیں حراست کے دوران قتل کیا گیا۔

مسعودہ نقد امداد یا نوکری نہیں بلکہ مکمل انصاف چاہتی ہیں۔ جنوبی کشمیر کے پام پور قصبہ کی رہنے والی مسعودہ کہتی ہیں ’انصاف تو دُور کی بات ہے، مجھے راشن کارڈ نہیں دیا جاتا۔ میں غریب ہندوستان کے لیے کیا خطرہ ہوسکتی ہوں، میرا قصور اتنا ہے کہ میں قصورواروں کے لیے سزا چاہتی ہوں۔‘

مسعودہ جیسی سینکڑوں خواتین کشمیر میں اپنے اقربا کی گمشدگی کے بعد نفسیاتی تناؤ میں متبلا ہوچکی ہیں۔ انہوں نے ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز‘ (گمشدہ افراد کی تنظیم) نام کی ایک انجمن بنائی ہے جو ہر ماہ سرینگر میں علامتی دھرنے کا اہتمام کرتی ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ بیس برس کے دوران آٹھ ہزار افراد لاپتا ہوئے جن میں سے بیشتر حراست میں لینے کے بعد سے گمشدہ ہیں۔ انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے کشمیر کے مختلف علاقوں میں ایسی چھ ہزار قبروں کی نشاندہی کی ہے جن میں دفن افراد کی شناخت نامعلوم ہے۔

لاپتا افراد کے لواحقین کو شک ہے کہ ان کے پیاروں کو فرضی جھڑپوں میں قتل کیا گیا اور عسکریت پسند بتا کر ان قبروں میں دفن کیا گیا۔ انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے قبرکشائی کی سفارش بھی کی، لیکن حکومت نے متاثرین سے کہا ہے کہ وہ خود ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظام کریں۔

پبلک سیفٹی ایکٹ

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کشمیر میں پندرہ ہزار سے زائد نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے قانون کے تحت قید کیا گیا۔ کشمیر میں آرمڈ فورسز سپیشنل پاورز ایکٹ یا افسپا نامی خوفناک قانون بھی نافذ ہے، جس کی رو سے کوئی بھی فوجی کسی بھی شخص کو عدالتی اجازت کے بغیر گولی مار سکتا ہے یا کسی بھی مکان کی تلاشی لے سکتاہے۔

یہ صورتحال انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیری حلقوں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کو انصاف اور قصورواروں کو سزا نہیں ملی تو کشمیر میں شورش کی ایک نئی لہر برپا ہوسکتی ہے۔

عالمی اداروں کے مطابق بائیس سال کے دوران مسلح شورش کو دبانے کی کارروائیوں اور مسلح حملوں کے نتیجہ میں ستّر ہزار افراد مارے گئے ہیں۔ لاپتا افراد کی تعداد آٹھ ہزار بتائی جاتی ہے۔ ڈیڑھ ہزار خواتین ایسی ہیں جو اپنے گمشدہ خاوندوں کے انتظار میں اب ’آدھی بیوائیں‘ کہلاتی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کشمیر میں پندرہ ہزار سے زائد نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے قانون کے تحت قید کیا گیا۔ کشمیر میں آرمڈ فورسز سپیشنل پاورز ایکٹ یا افسپا نامی خوفناک قانون بھی نافذ ہے، جس کی رو سے کوئی بھی فوجی کسی بھی شخص کو عدالتی اجازت کے بغیر گولی مار سکتا ہے یا کسی بھی مکان کی تلاشی لے سکتا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سیکورٹی پابندیوں، اندھادھند گرفتاریوں اور قدغنوں کی وجہ سے جو خاموشی پائی جاتی ہے، اسے قیام امن کا نام دینا خودفریبی ہے۔

بھارتی صحافی گوتم نولکھا بھارتی وکلا کی اُس ٹیم میں شامل تھے جنہوں نے کشمیر میں مبینہ زیادتیوں کے دو سو چودہ کیسوں میں پانچ سو فوجیوں اور پولیس افسروں اور اہلکاروں کو ملوث بتایا ہے۔

گوتم نولکھا کا کہنا ہے کہ ’جو کچھ یہاں بائیس سال میں ہوا، اس میں انسانیت کے خلاف جرائم ہوئے ہیں۔ بھارت اگر ان جرائم کی پردہ پوشی کرے گا تو کشمیریوں کا غصہ کوئی خطرناک شکل اختیار کرسکتا ہے۔‘

جنوبی بھارت کے وکیل کارتِک مروکوٹلا کا کہنا ہے کہ کشمیر میں انصاف کے نام پر صرف تحقیقات کے احکامات سنائےگئے ہیں اور بعض متاثرین کو نقد امداد دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’یہاں انصاف کا معیار گرایا جارہا ہے، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔