’مسلم آئی بی چیف‘ کے بیان پر تنازع

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 12:49 GMT 17:49 PST
سشیل کمار شندے

سشیل کمار شندے کے اس بیان پر کانگریس کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کہا ہے

بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے اس بیان پر بھارت میں تنازع کھڑا ہوگیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سونیا گاندھی ہی ایک مسلمان کو ملک کی خفیہ ایجنسی کا سربراہ مقرر کر سکتی ہیں۔

وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے یہ بات ریاست گجرات میں ایک انتخابی جلوس کے دوران کہی تھی۔

سشیل کمار شندے کے اس بیان کے بعد گجرات میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی حکومت کو ایک سیاسی اشو مل گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ خود کو سیکیولر پارٹی کہنے والی کانگریس جماعت مذہب کی بنیاد پر عہدے داروں کا انتخاب کررہی ہے۔

اس بیان کے بعد دوسرا تنازع یہ کھڑا ہوا کہ ملک میں اہم فیصلے سونیا گاندھی کرتی ہیں نہ کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ۔

بھارت کے انگریزی اخبار ڈی این اے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کانگریس پارٹی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سشیل کمار شندے کے بیان میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔

کانگریس پارٹی کےترجمان پی سی چاکو نے اس بارے میں کہا ہے ’ہمارے ملک میں ایسے بہت سارے افسران ہیں جن کا تعلق اقلیتی طبقوں سے ہے اور جو اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ جب قومی لیڈران گجرات جاتے ہیں تو اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے معاملے پر ہمیشہ بات ہوتی ہے۔ تو یہاں ہمیں یہ بات دھیان میں رکھنی ہوگی کہ مسٹر شندے نے کس تناظر میں یہ بات کہی ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایس آصف ابراہیم کی تقرری کا معاملہ کانگریس کا انتخابی اشو نہیں ہوگا۔

مسٹر پی سی چاکو کا مزید کہنا تھا کہ ایس اے ابراہیم کی تقرری کے لیے سونیا گاندھی کی تعریف کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا ’جمہوری نظام میں ایک سیاسی پارٹی ہی حکومت کو اہم فیصلے کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سونیا گاندھی حکومت کو راہ دکھا رہی ہیں۔‘

واضح رہے کہ بھارت کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب کسی مسلمان شخص کو خفیہ ایجنسی کا سربراہ بنایا گیا ہے۔

انیس سو ستتر میں آئی پی ایس یعنی انڈین پولیس سروس میں شامل ہونے والے ایس آصف ابراہیم کو حال ہی میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کا نیا چیف مقرر کیا گیا ہے۔

ایس اے ابراہیم کے آئی بی چیف مقرر ہونے پر کئی طرح کی باتیں سامنے آئی تھیں۔ بعص رپورٹس کے مطابق خود آئی بی میں بہت سے سینیئر اہلکار اس بات پر ناراض تھے کہ بہت سے سینئر اہلکاروں کو نظرانداز کر کے ایس اے ابراہیم کی تقرری کی گئی تھی۔

لیکن اس میں سب سے اہم یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایس اے ابراہیم ایک بے حد قابل اور ایماندار افسر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں اس عہدے پر مقرر کیا گیا ہے۔

لیکن سشیل کمار شندے کے حالیہ بیان کے بعد ایس اے ابراہیم کی قابلیت والی بات پر شک کے بادل چھا گئے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے سنہ دو ہزار چھ میں جسٹس سچر کی قیادت میں مسلمانوں کے سماجی اور اقتصادی حالات کے بارے میں جو جائزہ لیا گیا تھا اس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بھارتی فوج اور خفیہ اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم ہے اور اکثر مسلمانوں کو ان اداروں میں اہم عہدے نہیں دیے جاتے ہیں۔

سچر کمیٹی کی اس رپورٹ کے تناظر میں ایس اے ابراہیم کی آئی بی چیف کے عہدے پر تقرری اہم ہے۔

اگرچہ بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک مسلمان کا اس عہدے پر فائز ہونا محض ایک مثالی عمل ہے، اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے حالات میں راتوں رات بہتری آگئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔