ادویات کے تجربوں میں 400 سے زائد اموات

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 16:12 GMT 21:12 PST
ادویات

حکومت کا کہنا ہے ادویات بنانے والی بیرونی کمپنیوں کو بھارت آنے کی اجازت سے متعلق ضوابط کو مزید سخت کیا جائے گا۔

بھارتی حکومت کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس ادویات کے تجربوں میں چار سو زائد افراد کی موت ہوئی ہے ان میں زیادہ تر اموات بیرونی کمپنیوں کے تجربات میں ہوئی ہیں۔

حکومت نے جو اعدادوشمار جاری کیے ہیں اس کے مطابق چار سو اڑتالیس اموات میں سے پیتالیس فی صد لوگوں کی موت ادویات بنانے والی بھارتی کمپنیوں کی جانب سے کیے جانے والے تجربوں کے دوران ہوئی ہیں۔

حکومت کا کہنا کہ ان تجربوں کی اجازت دینے کے ضوابط مزید سخت کیے جائیں گے اور حکومت اس بارے میں ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔

بھارت میں ادویات کا تجربہ کرنے کے لیے سرکاری کمیٹیوں کی اجازت لینی پڑتی ہے لیکن اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں کہ آخر یہ عمل کس طرح کام کرتا ہے۔

وہیں برطانیہ میں اس بارے میں سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ ترقی پزیر ممالک میں ادویات کے تجربوں کے لیے ادویات بنانے والی کمپنیاں ان تجربوں سے متعلق ضوابط کا دھیان رکھ رہی ہیں یا نہیں۔

لندن میں جاری میڈیسن انڈیکس کے مطابق نئی ادویات کا انسانوں پر تجربہ کرنے والی بہت سے کمپنیاں تجربہ کرنے کا کام ٹھیکے داروں سے کراتی ہیں اور وہ اس بارے میں صحیح معلومات نہیں دیتے ہیں کہ وہ ترقی پذیر ممالک میں تجربات کس طرح کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ادویات بنانے والی بیرونی کمپنیاں بھارت میں غریبوں کو بغیر بتائے ان پر نئی دواؤں کے تجربے کرتی ہیں جن میں ان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق بیشتر غریب افراد کو یہ بھی نہیں بتایا جاتا ہے کہ ان پر دواؤں کا تجربہ کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔