چینی سیاح بھارت کیوں نہیں آنا چاہتے ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 دسمبر 2012 ,‭ 14:40 GMT 19:40 PST
چینی سیاح

اکا دکا چینی سیاح بھارت میں

بھارت کی وزارت سیاحت کے اعداد وشمار کے مطابق تقریباً پانچ کروڑ چینی ہر برس چھٹی منانے بیرونی ممالک کے سفر پر جاتے ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک لاکھ کے قریب ہی بھارت آتے ہیں۔

وزارت سیاحت کا کہنا ہے کہ بھارت سے چین جانے والے سیاحوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔

وزارت سیاحت کےاعداد و شمار کے مطابق سال دوہزار دس میں چین جانے والے بھارتی سیاحوں کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ تھی۔ تقریباً اتنے ہی بھارتی سیاح ہانگ کانگ چھٹی منانےگئے تھے۔

ایسا نہیں ہے کہ بھارت آنے والے بیرونی سیاحوں کی تعداد بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ سیاحت کے شعبے کے مطابق بھارت میں گزشتہ سال تریسٹھ لاکھ سے زیادہ سیاح آئے تھے جن میں سب سے زیادہ تقریباً دس لاکھ سیاح امریکہ سے آئے تھے۔

اس کے بعد دوسرا نمبر برطانیہ کا ہے جہاں سے تقریباً آٹھ لاکھ سیاح بھارت آئے تھے۔ وہیں بنگلہ دیش سے بھارت آنے والے سیاحوں کی تعداد تقریباً ساڑھے چار لاکھ تھی۔

لیکن گزشتہ برس چین سے صرف تقریباً ڈیڑھ لاکھ سیاح بھارت آئے تھے۔ہانگ کانگ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد صرف ایک ہزار سات سو بارہ تھی۔

"گزشتہ سال چینی سیاحوں نے اپنے بیرونی سفر پر چار سو ارب سے زیادہ روپئے خرچ کیے ہیں جو پوری دنیا میں جرمنی اور امریکہ کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔ "

وزارت سیاحت کے مطابق سال دوہزار نو میں اکاون لاکھ سے زیادہ غیر ملکی سیاح بھارت آئے تھے جن میں چینی سیاحوں کی تعداد صرف ایک لاکھ سے تھوڑی زیادہ تھی۔

سال دوہزار دس میں بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ اس برس کل ستاون لاکھ سیاح بھارت آئے جن میں چینی سیاحوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب تھی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت آنے والے بیشتر چینی تجارتی سلسلے میں یہاں آتے ہیں۔گزشتہ برس بھارت آنے والوں چینی افراد میں سے تقریباً سڑسٹھ فی صد تجارتی وجوہات سے بھارت آئے تھے۔

کیا وجہ ہے کہ اتنی کم تعداد میں چینی سیاح بھارت کا رخ کرتے ہیں؟

بیجنگ میں بھارت کے سیاحت محکمہ کی ڈائریکٹر دیپا لسكر نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا’چین میں بہت اعلیٰ درجے کی سہولیات موجود ہیں۔ یہ شاید دنیا کی سب سے اعلی سہولیات ہونگی۔ جو لوگ بھارت سے یہاں آتے ہیں وہ تو بہت خوش ہوکر واپس جاتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’لیکن ہم بھارت جانے والے چینی سیاحوں کے بارے میں ایسا نہیں کہہ سکتے ہیں۔ شاید راجستھان ایک ایسی ریاست ہے جو پورے بھارت سے جدا ہے۔ چینی سیاحوں کے لیے چھٹی منانے پر بڑی رقم خرچ کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن انہیں کوالٹی چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’پھر بھارت کے بارے میں ان کے اپنے کچھ خیالات ہیں۔ وہ یورپ، امریکہ اور دوسرے ممالک میں جانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔‘

ایک سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ’بھارت میں چینی زبان بولنے والےگائیڈ بھی آسانی سے نہیں دستیاب نہیں ہیں اور نہ ہی یہاں اچھا چینی کھانا ملتا ہے جس کی وجہ سے ٹور آپریٹرز بھی بھارت کے بارے میں تشہیر نہیں کر پاتے ہیں۔‘

لیکن بھارت میں بسے کچھ چینی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں چینی افراد کو ویزا کے حوالے سے کئی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

دلی میں مقیم چینی نژاد کے وی چو ایک دوکان چلاتی ہیں ان کا کہنا ہے ’ویزا حاصل کرنے میں ہونے والی مشکلات کی وجہ سے چین کے سیاح یہاں نہیں آتے ہیں۔‘

چین میں سیاحت کا بازار مسلسل تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بہت سے ملک اس کا فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں کیونکہ چینی سیاح بیرونی ممالک جاکر کافی پیسہ خرچ کرتے ہیں جس سے ان ممالک کی معیشت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔