’ممبئی حملوں کا بابری مسجد سے موازنہ نہیں کیا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 دسمبر 2012 ,‭ 10:28 GMT 15:28 PST
پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

رحمان ملک بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کریں گے

بھارتی ذرائع ابلاغ میں پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک کے مختلف بیانات پر سخت نکتہ چینی کی گئی ہے جو بھارت کے تین روزہ دورے پر جمعہ کو دلی پہنچے۔

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس بات کی سختی سے تردیدی کی ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کا موازنہ بابری مسجد کے انہدام یا سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے سے کیا ہے۔

ایک نجی بھارتی ٹی وی چینل سے بات چيت میں رحمان ملک نے بیشتر بھارتی اخبارات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’جب میں نے بابری مسجد کی بات کی تھی تو اس کا ممبئی حملے یا نائن الیون سے کوئی موازنہ نہیں کیا۔ میں نے جو کہا تھا وہ یہ تھا کہ ہم ایسے تکلیف دہ واقعات نہیں چاہتے جس سے عوام کو تکلیف پہنچے۔ میں نے کبھی کوئي موازنہ نہیں کیا اور میری سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کہاں سے اور کیسے میڈیا میں آگيا۔‘

انہوں نے بھارتی ذرائع ابلاغ کی جانب سے منفی کوریج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اخبارات پڑھے اور میں سمجھتا ہوں کہ غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری ہے۔

’میں نے بھارت پہنچتے ہی میڈیا سے کہا تھا کہ وہ مثبت پہلوؤں کو اجاگر کریں اور منفی فضا پیدا نہ کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا کے بعض گروپ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایجنڈہ سیٹ کرنا چاہتے ہیں تو یہ قطعی درست نہیں ہے۔

سنیچر کو شائع ہونے والے بیشتر بھارتی اخبارات نے رحمان ملک کے حوالے سے صحفہ اول پر جو خبریں شائع کی ہیں ان میں اسی پہلو کو اجاگر کیا گيا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملے کو بابری مسجد کے انہدام سے موازنہ کرکے ماحول کو سازگار نہیں بنایا۔

"جب ہم نے بابری مسجد کی بات کی تھی تو اس کا ممبئی حملے یا نائن الیون سے کوئی موازنہ نہیں کیا۔ میں نے جو کہا وہ یہ تھا کہ ہم ایسے بدصورت واقعات نہیں چاہتے جس سے عوام کو تکلیف پہنچے۔ میں نے کبھی کوئي موازنہ نہیں کیا اور میری سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کہاں سے اور کیسے ہوا۔"

معروف انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی سرخی ہے ’ملک نے ویزامعاہدے میں تلخي گھولی۔‘ اخبار نے لکھا ہے ’ممبئي حملے کی بابری مسجد سانحہ سے برابری کی، کہا کہ کیپٹن کالیا کی ہلاکت موسم کے سبب ہوئي ہوگي۔‘

انگریزی اخبار ’دی پایونیئر‘ کی سرخي ہے ’ملک نے کارگل ہیرو کی توہین کی اور کہا کہ شاید موسم کے کی وجہ سے ان کی موت ہوئي ہوگي۔‘

اخبار نے ویزا میں نرمی کی پالیسی کے اہم پہلو کو بھی اجا گر کیا ہے جس کے لیے رحمان ملک خصوصی طور پر دلی کے دورے پر ہیں۔

اخبار ہندوستان ٹائمز کی سرخی ہے ’قصاب کے الفاظ حافظ سعید کی گرفتاری کے لیے ناکافی‘۔ اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستانی رہنما امن و مبحت لے کر تو آئے لیکن ممبئی حملوں پر کچھ بھی نہیں لائے۔

معروف انگریزی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی سرخي ہے ’منہ پھٹ ملک نے ممبئی حملوں کا بابری مسجد سے موازنہ کیا۔‘

اخبار کی ذیلی سرخی ہے ’بھارت پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کو دھچکہ۔‘

اخبار دی ہندو نے حافظ سعید کے پہلو کو اجاگر کیا ہے اورمسٹر ملک کے اس بیان کو سرخی بنایا ہے کہ ’حافظ سعید کے خلاف کارروائي کے لیے قابل اعتبار شواہد نہیں ہیں۔‘

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک بھارت کے دورہ پر ویزا پالیسیوں میں کی گئی نرمیوں کے اعلان کے لیے بھارت کے دورہ پر آئے ہیں جو انہوں نے گزشتہ شب کیا تھا۔

لیکن اس پہلو کو اجاگر کرنے کے بجائے بھارتی ذرائع ابلاغ نے ان کے متنازع بیانات کو شائع‏ کیا ہے اور اسی پر طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔