گجرات میں انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل

آخری وقت اشاعت:  پير 17 دسمبر 2012 ,‭ 03:14 GMT 08:14 PST
گجرات کے ایک پولنگ سٹیشن کی تصویر

گجرات میں پہلے مرحلے میں تیرہ دسمبر کو ستاسی حلقوں میں پولنگ ہوئی تھی

گجرات میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے میں پیر کو پچانوے نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

پہلے مرحلے میں تیرہ دسمبر کو ستاسی حلقوں میں پولنگ ہوئی تھی۔ اس مرحلے پر تقریبا اکتہر فی صد ووٹ ڈالے گئے تھے۔

دوسرے مرحلے میں وزیرِ اعلیٰ نریندر مودی اور ان کی کابینہ کے چودہ وزرا کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔

اس مرحلے میں مرکزی گجرات کے پانچ اضلاع کی چالیس سیٹوں، شمالی گجرات کی پانچ اضلاع کی بتیس سیٹوں، احمدآباد کے آس پاس کے سترہ حلقوں اور گجرات کے کچھ علاقے کی چھ سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی ہے۔

دوسرے مرحلے میں ایک کروڑ اٹھانوے لاکھ رائے دہندگان آٹھ سو بیس امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

ووٹوں کی گنتی جمعرات بیس دسمبر کو کی جائے گی۔

پیر کو ہونے والی پولنگ میں وزیراعلیٰ نریندر مودی اور ان کے خلاف کھڑی ہونے والی امیدوار شویتا بھٹ سب سے اہم امیدواروں میں سے تھے۔ شویتا بھٹ مودی مخالف اعلیٰ پولیس افسر سنجیو بھٹ کی اہلیہ ہیں جنہیں کانگریس نے اپنا امیدوار چنا ہے۔

اس مرحلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے جن دیگر اہم امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے، ان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امِت شاہ، جے نارائن ویاس، آنندی پٹیل، اور سوربھ پٹیل شامل ہیں وہیں کانگریس کے شنکر سنگھ واگھیلا اور مہندر واگھیلا سدارتھ پٹیل کے نام اہم ہیں۔

تلسی پرجا پتی اور سہراب الدین کے فرضی پولیس مقابلے کے ملزم اور سابق ریاستی وزیر داخلہ امِت شاہ بھی پیر کو ہونے والے انتخابات میں شریک ہیں۔ وہ گذشتہ کئی مہینوں سے جیل میں تھے اور انتخاب سے کچھ دن پہلے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پولنگ میں کانگریس کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ شنکر سنگھ واگھیلا کا بھی فیصلہ ہو گا۔

گجرات میں پیر کو جاری پولنگ کے دوران سکیورٹی سخت ہے اور پولنگ تقریباً پر امن رہی ہے۔

گجرات کے شہر گودھرا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار راجیش جوشی کے مطابق پیر کو تقریبا گیارہ بجے پولنگ کے دوران تھوڑی سے بدمزگی تب پیدا ہوئی جب وہاں ایک پولنگ سٹیشن پر بعض مسلمان نوجوان سڑک پر اتر آئے اور اور اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے لگے۔

ان کا الزام تھا کہ ایک پولیس اہلکار نے ووٹ ڈالنے کے لیے گئے ہوئے ایک مسلمان نوجوان لڑکے کو تھپڑ مارا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی، لیکن پھر پولنگ سٹیشن پر موجود سیکورٹی اہلکاروں نے حالات پر قابو پا لیا۔

راجیش جوشی کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ریاست کے کسی بھی پولنگ سٹیشن کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔

دلی سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ کی شرح تقریباً اکتہر فی صد پولنگ رہی تھی جو کہ اوسط پولنگ سے بہت زیادہ تھی۔

عام حالات میں یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ پولنگ کی اونچی شرح مودی کے حق میں جائے گی۔ لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی کو ریاست کے شہری علاقوں میں زبردست مقبولیت حاصل ہے اور ووٹوں کی گنتی سے قبل یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ یہ ووٹ مودی کے خلاف ڈالے گئے ہیں یا نہیں۔

بیشر انتخابی تجزیہ کار مودی کی مسلسل تیسری بار فتح کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں ۔ نریندر مودی کے لیے ریاستی اسمبلی کا یہ انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ ان کی نظر وزارت عظمیٰ پر مرکوز ہے۔ ریاستی انتخابات میں ان کی جیت ان کے لیے وزارت عظمیٰ کی امیدواری کے لیے راستہ ہموار کر دے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔