’کئی ممبران پر خواتین کے خلاف جرائم کے الزام‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 دسمبر 2012 ,‭ 23:48 GMT 04:48 PST

نیشنل الیكشن واچ نے اراکین پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں داخل کرائے گئے گزشتہ حلف ناموں کی پڑتال کی

بھارت میں انتخابات اور امیدواروں پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم نیشنل الیكشن واچ کا کہنا ہے کہ کئی ممبران پارلیمان اور ممبران اسمبلی کے حلف ناموں میں دی گئی رپورٹ کے مطابق ان پر خواتین کے خلاف جرائم کے کیسز ہیں۔

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس سے بھی زیادہ تعداد میں ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیے گئے۔

دارالحکومت دلی میں اتوار کو چلتی بس میں ایک تئیس سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے معاملے کی پورے ملک اور میڈیا کے ساتھ ساتھ پارلیمان کے اندر ممبران پارلیمان نے بھی مذمت کی اور سخت قوانین کا مطالبہ کیا۔

اس غصے اور احتجاج کی لہر کے پس منظر میں نیشنل الیكشن واچ نے اراکین پارلیمان اور ممبران اسمبلی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں داخل کرائے گئے گزشتہ حلف ناموں کی پڑتال کی جس سے یہ باتیں سامنے آئیں۔

الیکشن واچ کی رپورٹ کے مطابق چھ اراکین اسمبلی نے الیکشن کے وقت بھارتی الیکشن کمیشن میں دیے گئے اپنے حلف نامہ میں اعتراف کیا ہے کہ ان کے خلاف جنسی زیادتی کا الزام ہے۔

ان چھ میں سے تین اراکین اسمبلی شري بھگوان شرما، انوپ سدا اور منوج کمار پارس ہیں جن کا تعلق سماج وادی پارٹی (اتر پردیش) سے ہے۔ ایک محمد علیم خان بہوجن سماج پارٹی (اتر پردیش) سے ہیں، جیٹھابھائي ہندوستان جے پی سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک آندھرا پردیش سے تیلگو دیسم ممبر اسمبلی كڈيكتا ویكٹا پرساد ہیں۔

اس کے علاوہ 36 دیگر اراکین اسمبلی کے حلف ناموں کے مطابق ان پر خواتین کے خلاف دیگر جرائم کے الزامات ہیں۔ ان میں سے چھ انڈین نیشنل کانگریس، پانچ بی ایس پی اور تین ایس پی سے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان 36 میں سے سب سے زیادہ آٹھ ممبر اسمبلی اتر پردیش سے ہیں۔ اس کے بعد اوڈشا اور مغربی بنگال کے سات سات ایم ایل اے ہیں۔

نیشنل الیکشن واچ کے جائزے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں سیاسی جماعتوں نے اسمبلی انتخابات کے لیے 27 ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیا جن کے حلف ناموں کے مطابق ان کے خلاف جنسی زیادتی کے الزام ہیں۔

سال 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے چھ ایسے لوگوں کو اپنا امیدوار بنایا جن پر جنسی زیادتی کا الزام ہے۔ ان انتخابات کے 34 دیگر امیدواروں پر خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔