’ریپ کی مخالفت کریں خواہ دلی میں ہو یا کشمیر میں‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 دسمبر 2012 ,‭ 12:11 GMT 17:11 PST
اروندھتی رائے

بھارت کی معروف مصنفہ اور سماجی مسائل پر نظر رکھنے والی ارون دھتی رائے بی بی سی کے دلّی سٹوڈیو آئیں جہاں انھوں نے دلّی میں ہونے والے حالیہ گینگ ریپ پر اظہار خیال کیا جو کچھ یوں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نہیں مانتی کہ دلّی ریپ کا دارالحکومت ہے۔ ریپ تو برسوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ ہماری ذہنیت میں سمايا ہوا ہے۔گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ ہوا، کشمیر میں سکیورٹی دستے ریپ کرتے ہیں، منی پور میں بھی ایسا ہوتا ہے لیکن اس وقت تو کوئی آواز نہیں اٹھاتا ہے۔‘

ایک اور واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’كھیر لانجي (ریاست مہاراشٹر کا ایک گاؤں) میں دلت خاتون اور اس کی بیٹی کا ریپ کر کے انہیں جلا دیا گیا تھا۔ تب تو ایسی آواز نہیں اٹھی تھی۔‘

ریپ کے پیچھے کارفرما ذہنیت پر انہوں نے کہا ’لوگوں کی سرمایہ دارانہ ذہنیت ہے جو اس وقت آواز اٹھاتی ہے جب اونچی ذات کے، اہمیت رکھنے والے لوگوں کے ساتھ دلّی میں کچھ ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ریپ کے معاملے پر ’آواز اٹھني چاہیے۔ جو ہوا ہے دلّی میں اس کے لیے تو شور مچنا ہی چاہیے لیکن یہ ہنگامہ صرف مڈل کلاس لوگوں کو بچانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے سماجی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ کو یاد ہو تو چھتیس گڑھ میں قبائلی خاتون سونی سوری کے ساتھ بھی کچھ ہوا تھا۔ ان کے اندام نہانی میں پتھر ڈالے گئے تھے۔ پولیس نے ایسا کیا لیکن اس وقت تو کسی نے آواز نہیں اٹھائی تھی۔ اس پولیس افسر کو تو بہادری کا ایوارڈ ملا۔‘

دہلی میں مظاہرہ

دلی میں ایک تیئس سالہ لڑکی کے ساتھ ریپ کے واقعے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’کشمیر میں جب سکیورٹی فورسز غریب کشمیریوں کا ریپ کرتے ہیں، اس وقت سیکورٹی فورسز کے خلاف کوئی پھانسی کا مطالبہ نہیں کرتا۔‘

سماج میں موجود ذات پات اور اس کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’جب کوئی اونچی ذات کا آدمی دلت (سماجی اعتبار سے نچلے طبقے کے ہندو) کا ریپ کرتا ہے تب تو کوئی ایسی مطالبہ نہیں کرتا۔ اس بار جب لڑکی کو ننگا پھینكا گیا تھا بس سے باہر تو سو سو لوگ وہاں کھڑے تھے۔ کسی نے اپنا کپڑا دیا اس کو؟ سب لوگ کھڑے رہے۔ دلّی میں امیر غریب کے درمیان فرق تو پہلے بھی تھا، اب بھی ہے، لیکن اب وہ بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ ریپ مسئلہ نہیں ہے۔ جب ملک تقسیم ہوا تھا اس وقت کتنے ریپ ہوئے تھے، اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ہم۔‘

’ریپ ایک خوفناک جرم ہے لیکن لوگ کیا کرتے ہیں؟ جس لڑکی کا ریپ ہوتا ہے اسے کوئی قبول کیوں نہیں کرتا؟ کس طرح کے سماج میں رہتے ہیں ہم؟ کئی معاملات میں جس کا ریپ ہوتا ہے اسی کو خاندان کے لوگ گھر سے نکال دیتے ہیں۔‘

اس سوال پر کہ یہ سب کیسے ٹھیک ہوگا، انہوں نے کہا کہ ’میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ سب کس طرح ٹھیک ہوگا لیکن ذہنیت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سماج میں بہت زیادہ تشدد ہے۔‘

دلّی میں جاری احتجاج پر انہوں نے کہا ’احتجاج ہونا چاہیے لیکن چن چن کر مخالفت نہیں ہونی چاہیئے۔ ہر عورت کے ریپ کی مخالفت ہونا چاہیئے۔ یہ دوہری ذہنیت ہے کہ آپ دلّی کے ریپ کے لیے آواز اٹھائیں گے لیکن منی پور کی عورتوں کے لیے، کشمیر کی عورتوں کے لیے اور كھیرلانجي کی دلتوں کے لیے آپ آواز کیوں نہیں اٹھاتے ہیں؟‘

ریپ کی مخالفت ’ریپ کی مخالفت کریں اس بنیاد پر نہیں کہ وہ دلّی میں ہوا ہے یا منی پور میں یا کسی اور جگہ۔ میں بس یہی کہہ سکتی ہوں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔