دلی ریپ: مظاہرے جاری، پولیس سے ٹکراؤ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 دسمبر 2012 ,‭ 13:04 GMT 18:04 PST
ریپ کے خلاف مظاہرہ

دلی میں ریپ کے خلاف مظاہرے جاری ہیں

دلّی کی پولیس نے گذشتہ اتوار کو ایک چلتی ہوئی بس میں ایک تئیس سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے خلاف وسطی دِلّی کے کچھ اہم علاقوں میں مظاہرے پر پابندی لگادی ہے۔

اتوار کو صبح ہی سے مظاہرین انڈیا گیٹ پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ انڈیا گیٹ پر موجود ایک صحافی کا کہنا ہے کہ بھیڑ تشدد پر آمادہ تھی اور توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی بندوق کا استعمال کیا اور انہیں بسوں میں بھر بھر کر وہاں سے جبراً لے جا رہی تھی۔

سنیچر کو مظاہرین نے پولیس کے ساتھ تصادم کیا اور بھیڑ ایوان صدر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

مظاہرین، جن میں طلبہ، مختلف جماعتوں کے کارکان، عوام اور گھروں میں رہنے والی خواتین شامل تھیں، ریپ کرنے والوں کے لیے پھانسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پولیس نے انڈیا گیٹ اور راجپتھ کے علاقے رائے سنہا ہِلز میں مظاہرے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور وہاں دفعہ ایک سو چوالیس لگا دی ہے تاہم مظاہرین ابھی تک وہیں جمع ہیں۔

واضح رہے کہ شروع میں یہ مظاہرین کسی جماعت کی ایماء پر ان میں شامل نہیں ہوئے تھے لیکن بعد میں ان میں کیجری وال کی پارٹی اور یوگا گرو بابا رام دیو اپنے حامیوں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں بی جے پی کے نوجوان ونگ کے کارکن بھی شامل ہیں۔

مظاہرین

مظاہرین میں طلبہ و طالبات کی اکثریت ہے۔

یہ مظاہرین بطور خاص انڈیا گیٹ کے علاقے میں ہیں۔ سنیچر کو انھوں نے راج پتھ اور رائے سنا ہلز میں اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے مظاہرے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مظاہرین میں شر پسند عناصر شامل ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء مظاہرین کی ایک جماعت نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور جنرل سکریٹری راہل گاندھی سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے بعد اس جماعت نے کہا کہ سونیا گاندھی نے انہیں اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنے اور کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بہر حال جن طلبہ نے سونیا گاندھی سے ملاقات کی انھوں نے اپنا نام بتانے سے انکار کیا ہے۔

وزیر داخلہ سوشیل کمار شنڈے نے تو یہاں تک کہا کہ ان کی بھی تین بیٹیاں ہیں اور وہ اس معاملے کی نوعیت کو سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

بھارتی پارلیمان میں حزب اختلاف کی رہنما سشما سوراج نے اپنے ٹوئٹ میں لوگوں سے ضبط و تحمل کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اشتعال سے معاملہ حل نہیں ہوگا۔

ریپ کا شکار لڑکی ابھی بھی ہسپتال میں ہے اور اس کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔