حسین ساگر جھیل حیدرآباد دکن کا دل

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 دسمبر 2012 ,‭ 07:21 GMT 12:21 PST

قطب شاہي دور کے بادشاہ ابراہیم قطب شاہ کے زمانے میں پانی کی قلت دور کرنے کے لیے اس جھیل کی تعمیر ہوئی تھی

دلنما حسین ساگر جھیل دہائیوں سے بھارت کے شہر حیدرآباد کی شناخت ہے۔ لیکن اب اس کی شناخت کو کسی کی نظر لگتی جا رہی ہے اور اس دل نے دھڑكنا بند کر دیا ہے۔

ساڑھے چار سو سال پرانی یہ جھیل اب ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی سیاحت کی تنظیم نے اس جھیل کو دنیا میں دل کے سائز کی سب سے بڑی جھیل قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ریاستی حکومت نے بھی اس جھیل کی صفائی اور اس میں نئی جان ڈالنے کی کوشش شروع کی ہے۔ اس کوشش میں پہلی بار عام شہریوں اور غیر سرکاری تنظیموں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

حیدرآباد شہر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور حسین ساگر کو خوبصورت بنانے کے منصوبے کے سربراہ ایم جے اکبر نے بی بی سی کو بتایا ’ہمیں امید ہے کہ اس کوشش کے اچھے نتائج نکلیں گے کیوں کہ اگر دیکھا جائے تو جھیل میں آلودگی کے ذمہ دار بھی ہم آپ جیسے لوگ ہیں، چاہے وہ قریبی علاقوں کے رہنے والے ہیں، جو اس میں کچرا پھینکتے ہیں یا صنعت کار جن کے کارخانوں سے نکلنے والا آلودگی جھیل کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔‘

حسین ساگر جھیل کو جو بات سب سے الگ کرتی ہے وہ یہ کہ یہ انسانی تخلیق دنیا کی سب سے بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے۔

قطب شاہي دور کے بادشاہ ابراہیم قطب شاہ کے زمانے میں ایک انجینئر حسین شاہ ولی نے پانی کی قلت دور کرنے کے لیے اس جھیل کی تعمیر کرائی تھی۔

حیدرآباد اور قطب شاہي دور کے ایک ماہر کہتے ہیں ’یہ جھیل سال 1559 سے 1562 تک صرف دو لاکھ 54 ہزار روپے کی لاگت سے بنائی گئی تھی۔ اس کام میں تقریباً 3500 مزدور لگے تھے۔ اس وقت اس جھیل کا سائز 1600 ہیکٹر تھا۔‘

"یہ جھیل سال 1559 سے 1562 تک صرف دو لاکھ 54 ہزار روپے کی لاگت سے بنائی گئی تھی۔ اس کام میں تقریباً 3500 مزدور لگے تھے۔ اس وقت اس جھیل کا سائز 1600 ہیکٹر تھا۔ حیدرآباد کی یہ جھیل چار مینار سے بھی 30 سال پرانی ہے۔ جب حیدرآباد شہر بسا تو تقریباً چار صدیوں تک اس جھیل سے حیدر آباد کو پینے کا پانی ملتا رہا اور آس پاس کے علاقوں میں آبپاشی کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا تھا۔"

قطب شاہي دور کے ماہر محمد سمیع اللہ

حیدرآباد کی یہ جھیل چار مینار سے بھی 30 سال پرانی ہے۔ جب حیدرآباد شہر بسا تو تقریباً چار صدیوں تک اس جھیل سے حیدر آباد کو پینے کا پانی ملتا رہا اور آس پاس کے علاقوں میں آبپاشی کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا تھا۔

اس جھیل کی تباہی کا سلسلہ ستّر کی دہائی سے شروع ہوا۔ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے جھیل میں گندگی بڑھتی گئی اور دوسری طرف خود حکومت کئی منصوبوں کے لیے جھیل کی زمین پر قبضہ کرنے لگی۔

یہ جھیل شہر کے بیچوں بیچ حیدرآباد اور سكندر آباد کو الگ کرتی ہے اس لیے اس علاقے میں زمین کی زبردست مانگ تھی۔

جھیل کا ایک اور ریاستی سیکریٹریٹ ہے جہاں پہلے محبوب محل تھا تو دوسری طرف راجبھون ہے جہاں پہلے حیدرآباد کے وزیر اعظم رہا کرتے تھے۔

جھیل کے کنارے چوڑی سڑکیں اور فلائی اوور بنائے گئے جس سے جھیل کا علاقہ سكڑتا چلا گیا اور ساتھ ہی آلودگی بڑھتی گئی۔

آج حالات یہ ہیں کہ جھیل کے آس پاس سے گزرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ بدبو کے مارے جان نکلتی ہے۔ جھیل کے ارد گرد بنی سڑکوں سے گزرنے والوں کو ناک اور منہ پر کپڑا رکھنا پڑتا ہے۔

اس سے پہلے بھی آلودگی کو روکنے کی کئی کوششیں ہوئیں اور اس کے لیے بیرون ملک سے مدد لی گئی لیکن کچھ نتیجہ نہیں نکل سکا۔

جھیل تک گندگی پہنچانے والے چار نالوں کی سمت تبدیل کرنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ کے ساتھ ہی ٹریٹمنٹ پلانٹ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

اسی منصوبے کے تحت جاپان نے 370 کروڑ روپے کی امداد دی ہے اور جھیل سے کیچڑ مٹی صاف کرنے کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔

اندازہ ہے کہ جھیل میں 60 لاکھ کیوبک فٹ کیچڑ بھرا ہوا ہے۔ اس منصوبے کو مکمل ہونے میں دو سال لگیں گے۔

قطب شاہي دور کے ماہر محمد سمیع اللہ کا کہنا ہے ’مجھے امید ہے کہ جب یہ کام مکمل ہو جائے گا تو جھیل کا پانی بہت صاف ہو جائے گا اور ہم وہاں دوبارہ سانس لے سکیں گے۔‘

"جھیل کا پانی اتنا آلودہ ہے کہ اس میں زندگی کا کوئی اشارہ نہیں۔ مچھلیاں مر چکی ہیں، پرندے آتے نہیں ہیں اور جھیل کے ارد گرد آٹھ کلو میٹر کے علاقے میں زیر زمین پانی بھی آلودہ ہو چکا ہے۔ اگر ابھی بھی جھیل کو صاف نہیں کیا گیا تو آگے جانے کیا ہو گا؟ یہ سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے۔"

قطب شاہي دور کے ماہر محمد سمیع اللہ

جھیل کو صاف رکھنے کے لیے حکومت نے اصلاحی مہم بھی شروع کی ہے۔

اس کے لیے ’کلین حسین ساگر فورم‘ بنایا گیا ہے جس میں کوئی بھی شہری اور ادارے شامل ہو سکتے ہیں اور مدد کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے فیس بک اور ٹویٹر جیسی سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

چیلنج ابھی باقی ہیں۔ حکومت گنیش مورتیوں کے وسرجن سے ہونے والی آلودگی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن سیاسی وجوہات کی بنا پر اس میں کامیابی نہیں مل رہی۔ کچھ تنظیمیں اس بات پر تیار نہیں ہیں کہ مورتیوں کے وسرجن جھیل میں نہ کی جائے۔

حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جب جھیل کی اہمیت کے بارے میں بیداری بڑھے گی تو گنیش کی مورتیوں کے وسرجن کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

قطب شاہي دور کے ماہر محمد سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ جھیل کا تحفظ صرف ایک تاریخی ورثے کو بچانا نہیں ہے بلکہ یہ شہر کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ ’جھیل کا پانی اتنا آلودہ ہے کہ اس میں زندگی کا کوئی اشارہ نہیں۔ مچھلیاں مر چکی ہیں، پرندے آتے نہیں ہیں اور جھیل کے ارد گرد آٹھ کلو میٹر کے علاقے میں زیر زمین پانی بھی آلودہ ہو چکا ہے۔ اگر ابھی بھی جھیل کو صاف نہیں کیا گیا تو آگے جانے کیا ہو گا؟ یہ سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے۔‘

ویسے حسین ساگر دم توڑنے والی اکیلی جھیل نہیں ہے۔ حیدرآباد میں قطب شاہی اور آصف ذاہي بادشاہوں نے جن ایک ہزار جھیلوں کی تعمیر کرائی تھی ان میں سے زیادہ تر اب نہیں رہیں اور بچی ہوئی جھیلوں کے ارد گرد پھانسی کا پھندا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔