رتن ٹاٹا ریٹائر، قیادت اب سائرس کے پاس

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 08:39 GMT 13:39 PST
رتن ٹاٹا

رتن ٹاٹا نے انیس سو اکیانوے میں ٹاٹاگروپس کی قیادت سنبھالی تھی

بھارت کے معروف صنعتکار اور ٹاٹا گروپ کے سربراہ رتن ٹاٹا جمعہ کو پچھہتر سال کی عمر میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے ٹاٹا گروپ کی کمپنیوں کی قیادت قریب دو دہائی قبل اپنے ہاتھوں میں لی تھی۔ اس وقت رتن ٹاٹا سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں تھیں لیکن ان کی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے آزاد بازار کی اصلاحات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈرامائی انداز میں ترقی کی اور نئی بلندیوں کو چھوا۔

دنیا کی سب سے سستی نینوکار کے لانچ سے لے کر یہ عالمی سطح پر دوسری کمپنیوں کو خریدنے کی پالیسی پر شدومد کے ساتھ کاربند رہی۔

ان کے جانشین سائرس مستری جو کہ ان کے رشتے دار بھی ہیں وہ پہلے ایسے شخص ہیں جو اس کمپنی کی ڈیڑھ سو سال کی تاریخ میں ٹاٹا خاندان کا نام استعمال نہیں کریں گے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ ٹاٹا گروپ کی قیادت سائرس مستری کے ہاتھوں میں جا رہی ہے گروپ کے اندر اور باہر دونوں جانب ایک قسم کی بے چینی کا عالم ہے۔

رتن ٹاٹا نے اپنے جانشین کے لیے ایک بڑی وراثت چھوڑی ہے کیونکہ انہوں نے عالمی کسادبازاری کے باوجود کمپنی کو توسیع اور ترقی کا کام جاری رکھا۔

رتن ٹاٹا نے عالمی سطح پر ٹاٹا کو ایک برانڈ کے طور پر مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دو ہزار گیارہ میں ایک ایجنسی نے ٹاٹا برانڈ کی قیمت کا تخمینہ سولہ اعشاریہ تین ارب ڈالر لگایا تھا اور اسے دنیا کے پینتالیسویں سب سے قیمتی برانڈ کا درجہ دیا گیا تھا۔

سائرس مستری

سائرس مستری ٹاٹا کی ڈیڑھ سو سال کی تاریخ میں پہلے شخص ہیں جو ٹاٹا کا خاندانی نام استعمال نہیں کر رہے ہیں۔

جب سنہ انیس سو اکانوے میں رتن ٹاٹا کو ٹاٹا گروپس کی قیادت سونپی گئی تھی اس وقت حالات الگ تھے۔ ان کے سابق رہنما جے آر ڈی ٹاٹا کو صنعتی دنیا کا بڑا کھلاڑی تسلیم کیا جاتا تھا۔ جے آر ڈی نے حکومتی نگرانی اور لال فیتہ شاہی والے بے حد مشکل دور میں بھی کمپنی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

لیکن انیس سو اسّی کی دہائی تک جے آر ڈی کی قیادت کمزور پڑنے لگی تھی۔ کمپنی کے اندر ہی کمپنی کا کنٹرول بڑے مینیجروں کے ہاتھوں میں آ گیا تھا۔ یہ مینیجر اہم سمجھے جانے لگے اور کمپنی پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے کے حریف بن گئے۔

ایسے میں رتن ٹاٹا ایک انجان چہرے کی طرح میدان میں آئے۔ کچھ بڑے عہدیدار یہ سوچنے لگے کہ انہیں کنارے لگایا جا سکتا ہے لیکن رتن ٹاٹا نے دھیرے دھیرے اس گروپ پر اپنی پکڑ مضبوط کرنی شروع کی۔

ذمہ داری سنبھالنے کے بعد رتن ٹاٹانے ٹاٹا برانڈ کو مضبوطی کے ساتھ فروغ دینے کو اولیت دی۔ بعد میں ایک بار انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے پاس ایک مضبوط وراثت تھی لیکن برانڈ نہیں تھا‘۔

صارفین، سٹاف، سرمایہ کار، کمیونیٹی اور تمام طرح کے شراکت داروں کے درمیان برانڈ قائم کرنے کی کوشش جاری رہی جس کے نتیجے میں ٹاٹا گروپس کے تئیں لوگوں کے نظریے میں تبدیلی نظر آئی۔

نوے کی دہائی میں ٹاٹا کا نام بھروسے اور احترام کے ساتھ لیا جاتا تھا۔ لیکن اس کی شناخت ایک قدیم اور بنیادی قسم کی کمپنی کی تھی اور انفوسس اور رینبکسی جیسی کمپنیاں بھارت میں مستقبل کی نمائندہ کمپنیوں کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہی تھیں۔

رتن ٹاٹا

رتن ٹاٹانے ٹاٹا برانڈ کو مضبوطی کے ساتھ فروغ دینے کو اولیت دی

لیکن ایک دہائی کے بعد سب کچھ بدل گیا اور ٹاٹا کو مستقبل کی جانب دیکھنے والی کمپنی کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ سنہ دو ہزار آٹھ میں بزنس ویک نام کی میگزن نے ٹاٹاگروپس کو دنیا کی دس جدید ترین کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا۔ نوکری کے لیے نوجوان اب ٹاٹا کو اپنی پسند کی کمپنی سمجھتے ہیں حالانکہ ٹاٹا انہیں اپنی حریف کمپنیوں کے مقابلے کم تنخواہ دیتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ٹاٹا کی عالمی حکمت عملی راتوں رات نہیں بنی بلکہ بدلاؤ کا یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ ٹاٹا بیورجز یعنی مشروب، ٹاٹا موٹرز، ٹاٹا اسٹیل، ٹاٹا کنسلٹینسی خدمات اور تاج ہوٹل جیسی گروپ کمپنیاں عالمی سطح پر ابھریں۔ اسی گروپ کی چند دوسری کمپنیوں نے شروعات دیر سے کی۔

ٹی سی ایس نے خدمات کے میدان میں شروع سے ہی بھارت کی رہنمائی کی ہے اور آج اس کا کاروبار ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ ٹاٹا بیورجز کافی پہلے ٹاٹا ٹی کے نام سے بازار میں تھی۔ دو ہزار میں ٹیٹلی ٹی کو خریدنے کے ساتھ ہی کمپنی لوگوں کی نظر میں آگئی۔ ٹاٹا گروپ کی دوسری کمپنیوں نے بین الاقوامی سطح پر دوسری کمپنیوں کو خریدنے کی شروعات کی۔

ٹاٹا کی حکمت عملی اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس میں کسی کو شک نہیں کہ ٹاٹا اسٹیل کی آمدنی کا بڑا حصہ اب بھارت سے باہر کے بازاروں سے آتا ہے اور اب ان کے لیے پیچھے لوٹنے جیسی کوئی بات نہیں ہے۔

رتن ٹاٹا کے جانشین سائرس مستری کی ذمہ داری اسی حکمت عملی کو آگے لے جانے کی ہے۔ ٹاٹا کے منتظمین اور اس کے کاروبار پر نظر رکھنے والوں میں بے چینی کی ایک وجہ ان کا رتن ٹاٹا کی طرح ہی انجان سا ہونا ہے۔ لوگوں کے سامنے یہ سوال ہے کہ کیا وہ رتن ٹاٹا کی حکمت عملیوں پر بخوبی عمل پیرا ہو سکتے ہیں؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔