دہلی ریپ کیس پر سوشل میڈیا پر غم و غصہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 دسمبر 2012 ,‭ 05:38 GMT 10:38 PST

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں اجتماعی عصمت دری واقعے کی شکار لڑکی کی موت کی خبر کے بعد سوشل میڈیا پر اس کی روح کی امن کے لیے لوگ دعا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

امیتابھ بچن، بالی ووڈ اسٹار

’امانت‘ کہیں یا ’دامني‘۔ اب یہ صرف ایک نام ہے۔ اس کے جسم کی موت ہو گئی ہے لیکن اس کی روح ہمارے دلوں کو جھنجھوڑتي رہے گی۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ

میں پوری عوام کے ساتھ مل کر اس لڑکی کے گھر والوں اور دوستوں سے اظہارِ افسوس کرتا ہوں۔ میں دعاگو ہوں کہ اس کے خاندان کو صبر عطا ہو۔

سہیل سیٹھ، مصنف اور مارکیٹنگ ہستی

اگر اپنی موت سے وہ مردوں کے لیے یہ سبق چھوڑ سکی ہے کہ انہیں خواتین سے کس طرح برتاؤ کرنا ہے اور کس طرح ان کا احترام کرنا ہے تو یہ ایک اصل جیت ہوگی۔

بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین

کیا اسے دوسرے ملک میں مرنے کے لیے سنگاپور بھیجا گیا تھا؟ لیکن لوگوں کو اس کی شوياترا نکالنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اس لڑکی کی کہانی جانتے ہیں۔

كنال کوہلی، فلم ڈائریکٹر

نئی دہلی میں اجتماعی عصمت دری کی شکار بنی لڑکی کی موت ہو گئی ہے، اس کے ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا ہے۔

نیہا دھوپيا، اداکارہ اور ماڈل

سال کا اختتام اتنی دردناک خبر کے ساتھ ہو رہا ہے۔

طارق فتح، کینیڈا

نئی دہلی میں عصمت دری کی شکار لڑکی کی موت ہوئی۔ لڑکی نے سنگاپور کے ہسپتال میں دم توڑا۔ کہاں ہے خدا؟

پاکستانی آرٹسٹ نادیہ جمیل

عصمت دری پرتشدد طریقہ ہے اپنی طاقت دکھانے کا۔ اس کا جنسی یا اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ عورت نے کیا پہنا ہے، وہ کیا کہہ رہی ہے یا کیا کرتی ہے۔

دیا مرزا، اداکارہ

مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے جسم کے ایک حصے کی موت ہوئی ہے۔

شبانہ اعظمی، اداکارہ

اور اس کی موت سنگاپور میں ہوئی۔ ہماری بے حسی ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ امید ہے کہ وہ ملک کا سویا ضمیر جگا سکے گی۔

وجے مالیا، ممبر پارلیمنٹ اور صنعتکار

افسوس ہے کہ ایک نوجوان لڑکی کی موت اس پرتشدد اور غیر انسانی عمل سے ہوئی۔ فاسٹ ٹریک عدالتوں میں اور تیزی لائی جائے اور انصاف کیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔