دلی گینگ ریپ کے ملزمان پر فرد جرم عائد

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 12:51 GMT 17:51 PST

عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر اس مقدمے کی سماعت ہوگی

بھارتی دارالحکومت نئی دلّی میں بس میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کرنے والے پانچ ملزمان پرجمعرات کی شام کو فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔

اس طرح اس مقدمے کی باقا‏عدہ سماعت شروع ہوگئی ہے اور فاسٹ ٹریک عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر یہ مقدمہ سنا جائے گا۔

پولیس نے جو چارج شیٹ فائل کی ہے اس میں پانچ ملزمان پر اغوا کرنے، قتل کا اقدام کرنے اور گینگ ریپ جیسے الزامت لگائے گئے ہیں۔

اگر عدالت ان افراد کو قصوروار پاتی ہے تو انہیں موت کی بھی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ایک ملزم کی عمر کم تھی اس لیے ان پر بچوں کی عدالت میں مقدمہ چلےگا۔ پولیس نے اس مقدمے میں چھ افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں بس کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔

مقدمے کے پانچ ملزم دلّی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں جبکہ نابالغ ملزم کو بچوں کے اصلاح خانے میں رکھا گیا ہے۔

جنوبی دلی کی ساکیت کی عدالت میں فرد جرم عائد کرتے وقت سکیورٹی وجوہات کے سبب ان ملزمان کو عدالت میں نہیں پیش کیا گيا۔

اس عدالت میں پانچ فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی گئی ہیں انہیں میں سے ایک میں فردجرم عائد کی گئی اور مقدمہ کی سماعت ہر روز ہوگي۔

امکان ہے کہ اس کیس کی سماعت ایک ماہ کے اندر مکمل ہوجائے گي اور اس کا فیصلہ بہت جلد آنے کی توقع ہے۔

ساکیت کی عدالت کے احاطے میں اس موقع پر قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کی زبردست بھیڑ تھی جو اس عدالتی کارروائي کی کوریج کے لیے جمع ہوئے تھے۔

ہمارے نامہ نگار شکیل اختر بھی احاطے میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فرد جرم عائد ہونے سے پہلے عدالت کے احاطے میں ہی خواتین وکلاء نے ایک مظاہرہ بھی کیا۔

اگر ان ملزمان پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں سزائے موت دی جا سکتی ہے

خواتین وکلاء عورتوں پر تشدد کے خلاف نعرہ بازي کر رہی تھیں اور اس سلسلے میں پولیس کے ریہ پر بھی شدید نکتہ چینی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ریپ کے تعلق سے خواتین کے ساتھ پولیس کا رویہ انتہائی ذلت آمیز ہے اور پولیس کے رویہ میں تبدیلی بہت ضروری ہے۔

زیادتی کا یہ واقعہ سولہ دسمبر دو ہزار بارہ کی رات اس وقت پیش آیا تھا جب مذکورہ لڑکی رات گئے اپنے دوست کے ہمراہ فلم دیکھنے کے بعد بس میں سوار ہوئی تھی اور اسے جنوبی دوراکا کے علاقے میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد چلتی بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

بھارت میں ابتدائی علاج کے بعد اس لڑکی کو سنگاپور منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ گزشتہ سنیچر کو اس حملے کے نتیجے میں لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں تیس گواہ نامزد کیے ہیں جن میں دلی اور سنگاپور میں لڑکی کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔

ہلاک ہونے والی لڑکی کا نزعی بیان اور اس کے زخمی ساتھی کا بیان بھی اس مقدمے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

اس سے قبل خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی تھی کہ واقعے کی رات طالبہ کو جنسی زیادتی کے بعد لوہے کے سریوں سے پیٹا گیا اور پھر بس سے باہر پھینک دیا گیا۔

اس واقعے کے خلاف بھارت بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے

پولیس نے بتایا تھا کہ باہر پھینکنے کے بعد ملزمان نے لڑکی کو بس سے کچلنے کی کوشش بھی کی لیکن اس کے ساتھی نے اسے بچا لیا۔

ادھر اس واقعے کے خلاف بھارت بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ سخت سردی کے باوجود مظاہرین دلّی میں جنتر منتر کے مقام پر جمع ہیں اور ملک میں خواتین کے تحفظ کے لیے بہتر اقدامات اور ریپ قانون میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں بدھ کو ہزاروں خواتین مظاہرین نے راج گھاٹ تک مارچ کیا تھا۔ دلی کی وزیرِاعلیٰ شیلا دکشت بھی اس موقع پر مظاہرین کے ساتھ تھیں اور انہوں نے جنسی زیادتی کے خلاف سخت قانون کے مطالبے کی حمایت کی۔

ادھر ایسے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں کہ ملک میں ریپ کے حوالے سخت قوانین بنائے جائیں اور انہیں اس لڑکی سے منسوب کیا جائے۔

لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ ملک میں جنسی زیادتی کے خلاف جو سخت قانون بنانے کی بات ہو رہی ہے، اس کا نام ان کی بیٹی کے نام پر رکھا جائے تو ایسا کرنا ان کی بیٹی کے لیے قابلِ احترام ہوگا اور اس کے نام پر قانون بنانے پر خاندان کو کوئی اعتراض نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔