2012: بھارت میں سیاسی ہلچل کا سال

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 08:09 GMT 13:09 PST

انا ہزارے بدعنوانی کے خلاف عوامی جذبات کے ترجمان بن گئے

بھارت میں سال 2012 کا اختتام جنسی زیادتی کے ایسے واقعے سے ہوا ہے جس کے صدمے سے پورا ملک ابھی تک نکل نہیں سکا ہے۔

تئیس سالہ ایک طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے اس بھیانک واقعے نے ملک میں ریپ اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کی حقیقت کو سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

قانونی ماہرین ان جرائم پر قابو پانے کے لیے موثر قوانین وضع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بھارت میں پورے نظامِ انصاف پر بحث چھڑ گئی ہے اور تیز رفتار عدالتوں کے قیام کا عمل شروع ہوگیا ہے ۔

اس واقعے سے ہٹ کر دیکھا جائے تو گزرا ہوا برس بھارت میں بدعنوانی کے خلاف عوام کی بڑھتی ہوئی بےچینی کے لیے یاد رکھا جائےگا۔ ایک طرف عوام فیصلہ کن اقدامات کی توقع کرتے رہے اور دوسری جانب منمموہن سنگھ کی حکومت پوری طرح بے بس اور لاچار نظر آئی۔

ایمانداری کوفروغ دینے والی بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی اہلکار انوپما جھا کہتی ہیں کہ ’بدعنوانی اوپر سے نیچے تک پھیلی ہوئی ہے اور ہر برس اربوں ڈالر کا کالا دھن غیر ممالک میں جمع کیا جا رہا ہے۔‘

ملک میں بدعنوانی اتنے بڑے پیمانے پر ہے کہ لوگوں کی برداشت کی حد اب ختم ہو چکی ہے اور یہی وجہ تھی کہ سماجی کارکن انا ہزارے بدعنوانی کے خلاف عوامی جذبات کے ترجمان بن گئے۔

انہیں اب سیاسی جماعتوں پر بھروسا نہیں رہا۔’بیالیس برس میں آٹھ بار لوک پال احتسابی ادارے کا بل پارلیمنٹ میں پیش ہو چکا ہے لیکن اسے منظوری آج تک نہیں ملی ہے۔‘ یہ لوک پال قانون ایک بار پھر پارلمینٹ میں زیرِغور ہے ۔

اروند کیجریوال کے خیال میں بھارتی سیاسی جماعتوں سے کوئی توقع رکھنا فضول ہے

انا کے قریبی ساتھی اروند کیجریوال نے کئی دیگر اہم شخصیات کے ساتھ ایک نئی پارٹی ’عام آدمی پارٹی‘ تشکیل دی ۔ وہ کہتے ہیں کہ ’سبھی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ۔ ان سے اب کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘'

تجزیہ کار بھرت بھوشن کہتے ہیں کہ ’لوگوں کا پورے سیاسی نظام سے یقین اٹھنے لگا ہے لیکن کرپشن کے لیے صرف سیاسی جماعتیں ہی نہیں معاشرہ بھی ذمے دار ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کبھی یہ نہیں سکھاتے کہ ایمانداری بہت بڑی چیز ہے۔‘

سیاسی تجزیہ کار ونود شرما گزرے ہوئے برس کے پس منظر میں کہتے ہیں کہ معاشرے میں بےچینی بہت بڑھ رہی ہے۔ لوگ مواقع حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مہنگائی بڑھی ہوئی ہے، روزگار ہے نہیں۔ اس وقت بھارتی معاشرہ ایک منقسم اور مایوس سماج بن گیا ہے۔ موجودہ سیاسی طبقہ اس صورتحال کو بدلنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ جلد ہی اس طبقے کو یہ سوچنا پڑے گا کہ کس طرح اس صورتحال سے ہم آہنگی پیدا کی جائے۔‘

گذشتہ برس گجرات کے فسادات کے کئی معاملوں میں عدالتوں کے فیصلے آئے اور بعض وزراء سمیت درجنوں افراد کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ اسی سال کے دوران دہشت گردی کے برسوں پرانے کئی واقعات میں مسلم ملزمان کو بےقصور پایا گیا اور ملک میں پولیس کے طرز عمل پر بحث بھی ہوئی۔

گذشتہ برس نریندر مودی تیسری مرتبہ انتخاب جیت کر گجرات کے وزیراعلیٰ بنے۔

دلّی میں اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد بھارت میں شدید احتجاج ہوا ہے

ملک کے بہت سے صنعت کار اور ان کی جماعت کا ایک حلقہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں انہیں وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔

خود مودی کے لیے یہ برس بہت اہم ہے۔ وہ آنے والے دنوں میں اپنی توجہ دلی کی قومی سیاست پر مرکوز کریں گے۔ قومی سیاست کے اس سفر میں انہیں ابتدائی مرحلے میں دشواریاں بھی پیش آ سکتی ہیں کیونکہ بی جے پی کی بعض اتحادی جماعتیں انہیں وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔ خود بی جے پی نریندر مودی کے طریقہ کار کے سبب ان کی امیدواری کے بارے میں پس و پیش میں ہے۔

غرض یہ کہ بھارت اس وقت ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں حکومت اور سیاسی جماعتیں بےبس نظر آ رہی ہیں۔ ایک طرف عوام ایک تیز رفتار ،موثر اور فیصلہ کن شفاف نظام کے متمنی ہیں تو دوسری جانب عوام سے کٹی ہوئی مغرور، جاگیردارانہ نفسیات کی حامل اور تھکی ہوئی سیاسی جماعتیں ہیں۔

گزرے ہوئے برس میں عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان خلیج بڑھ گئی ہے اور ریپ کے اس واقعے نے یہ خلیج اور بھی وسیع کر دی ہے ۔

2012 نے جہاں بھارت کی سیاست میں تغیر پیدا کیا وہاں اب 2013 ممکنہ طور پر بھارت کی سمت متعین کر دے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔