’خواتین کے خلاف تشدد بھارتی سماج کا حصہ ہے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 18:47 GMT 23:47 PST

بھارت میں زیادتی کرنے والے اکثر مجرم قانون سے بچ نکلتے ہیں

گذشتہ ماہ دلی میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، مظاہرے ہو رہے ہیں اور قوانین میں تبدیلی کے مطالبے سامنے آئے ہیں۔ لیکن بی بی سی کی گیتا پانڈے جنسی زیادتی کے چند ایسے واقعات پر نظر رہی ہیں جو کہ میڈیا کی سرخیوں میں کچھ وقت تک تو رہے مگر پھر عوامی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔

بیشتر روز بھارتی اخبار حیران کن اور درد ناک خبریں شائع کرتے ہیں۔ دلی میں دس ماہ کی بچی کے ساتھ ایک ہمسائے نے جنسی زیادتی کر دی، کولکتہ میں ایک ڈیڑھ سال کی بچی کے ساتھ زیادتی کر کے اسے سڑک پر چھوڑ دیا گیا۔

اتر پردیش کے ایک پولیس سٹیشن میں ایک چودہ سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا، حوراہ میں ایک شوہر نے اپنی ہی بیوی کی اجتماعی زیادتی کو ممکن بنایا، خراگپور میں ایک پینسٹھ سالہ بوڑھی خاتون کا بھی ریپ ہوا!

مگر ایک ایسے ملک میں بھی جہاں ہر اکیس منٹ کے بعد جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ رپورٹ کیا جاتا ہے، یہ خوفناک جرائم متاثر ہونے والوں اور ان کےخاندانوں کے علاوہ کسی کو یاد نہیں رہتے۔

انھیں انصاف کی لڑائی لڑنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا اور وہ اکثر یہ جنگ ہار جاتے ہیں۔

انصاف کا دھوکہ

ان جرائم کے حوالے سے ایک انتہائی دردناک اور نہ ختم ہوتی کہانی ممبئی کی ایک نرس ارونا شانباگ کی ہے۔

ستائیس نومبر انیس سو تہتر کو اس پچیس سالہ خاتون کو اپنے ہی ہسپتال میں صفائی کرنے والے ایک ملازم سوہن لال بھارتہ نے ریپ کیا اور زنجیروں کی مدد سے ان کا گلا گھونٹ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔

اس واقعے نے ارونا شانباگ کی جان تو نہ لی مگر ان کی زندگی ضرور چھن گئی۔ گذشتہ انتالیس برس سے وہ ہسپتال میں کومے کی حالت میں ہیں۔ نہ وہ کسی کو پہچان سکتی ہیں اور نہ ہی بول سکتی ہیں۔

ان کی کہانی پر کتاب لکھنے والی صحافی اور مصنفہ پنکی ویرانی بتاتی ہیں کہ ’سوہن لال پر ریپ کی فردِ جرم بھی عائد نہیں کی گئی تھی۔‘

سوہن لال پر چوری اور قتل کی کوشش کا مقدمہ چلایا گیا اور سات سال قید دی گئی۔

خواتین کے خلاف تشدد بھارتی سماجی میں کا ایک حصہ بن گیا ہے

ایک طرف ارونا ہسپتال میں پڑی ہیں اور دوسری طرف ان پر حملہ کرنے والا آزاد گھوم رہا ہے۔

پنکی ویرانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے سوہن لال کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ ناکام رہیں۔ ’مجھے بتایا گیا کہ سوہن لال نے اپنا نام تبدیل کر لیا ہے۔ جہاں وہ کام کرتا تھا نہ تو اس ہسپتال کے پاس اور نہ ہی عدالتوں کے پاس اس کی کوئی تصویر ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق وہ دلی کے کسی ہسپتال میں بطور وارڈ بوائے کام کر رہا ہے۔‘

خواتین کے خلاف تشدد بھارتی سماجی میں کا ایک حصہ بن گیا ہے۔

سنہ دو ہزار تین میں پوری ملک کو اس وقت شرمندگی اٹھانی پڑی جب ایک اٹھائیس سالہ سوئس سفارتکار کو دلی کے ایک خوشحال علاقے سری فورٹ میں دو مردوں نے ان کی گاڑی میں دھکیلا اور ان میں سے ایک سفارتکار کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے کو بیان کرتے ہوئے سوئس خاتون کا کہنا تھا کہ وہ روانی سے انگریزی بول رہا تھا اور انھوں نے سوئٹزرلینڈ کے بارے میں بات چیت بھی کی۔

جیلوں میں خواتین قیدی محفوظ؟

سوھنی سوری اکتوبر دو ہزار گیارہ سے ماؤ علیحدگی پسندوں کی مدد کرنے کے الزام میں پولیس کی یراست میں ہیں۔ انھوں نے عدالت کو بتایا ہے کہ زیرِ حراست ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور ان کی بچہ دانی میں پتھر گھسائے گئے ہیں۔

سنہ دو ہزار چار میں آسام رائفلز کے فوجی منی پور میں بتیس سالہ منوراما کو ان کے گھر سے باغیوں کی مدد کرنے کے الزام میں لے گئے تھے۔ چند گھنٹے بعد ان کی تشدد شدہ لاش ایک سڑک کے کنارے ملی اور ان کے پیٹ کے نیچے کئی گولیاں ماری گئی تھیں۔

گذشتہ سال چودہ سالہ سونم کو اتر پردیش کے ایک پولیس سٹیشن کے اندر ہی زیادتی کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

سنہ دو ہزار دو میں گجرات میں ہونے والے فسادات کے دوران کئی مسلمان خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی تھی۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کے سلسلے میں کئی تنظیم بار بار کہتی رہی ہیں کہ سکیورٹی اہکار خواتین کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں خواتین کے ساتھ زیادتی کو اجتماعی سزا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

مئی دو ہزار نو میں کشمیر کے قصبے شوپیاں میں دو لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل کی وجہ سے سنتالیس روز تک مظاہرے ہوئے۔ اس واقعے میں بھی الزام مقامی پولیس پر ہی تھا۔

چھتیس گڑھ میں سوھنی سوری اکتوبر دو ہزار گیارہ سے ماؤ علیحدگی پسندوں کی مدد کرنے کے الزام میں پولیس کی یراست میں ہیں۔ انھوں نے عدالت کو بتایا ہے کہ زیرِ حراست ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور ان کی بچہ دانی میں پتھر گھسائے گئے ہیں۔

ان تمام خواتین میں سے بہت سی کئی سالوں سے انصاف کا انتظار کر رہی ہیں۔

زیادتی کرنے والے بہت سے مجرم اس وجہ سے قلیل یا کم سخت سزائیں پاتے ہیں کیونکہ بہت سے جج ان وضاحتوں کو مان لیتے ہیں کہ مجرم نے شراب پی رکھی تھی یا پھر اونچی ذات کا ملزم نچلی ذات کی عورت کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔