’بیڈ شیٹ سے ڈھانپا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 06:55 GMT 11:55 PST

بس کی کھڑکیاں ڈھكي ہوئی تھیں اور وہ سمجھ گئے کہ بس میں موجود لوگوں نے انہیں پھنسا لیا ہے: لڑکا

اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کے دوست نے ایک ٹی وی چینل کو دیےگئے انٹرویو میں اس واقعے کی تفصیلات اور اس کے بعد پولیس اور عوام کے ردعمل پر بات کی تھی۔

اس لڑکے کا کہنا تھا کہ ’ تقریباً 45 منٹ بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی لیکن آپس میں دائرہ اختیار طے کرنے میں انہیں وقت لگا۔ میں نے بار بار کوئی کپڑا دیے جانے کا مطالبہ کیا لیکن کسی نے بات نہ سنی اور کافی دیر بعد ایک بیڈ شیٹ پھاڑ کر دی گئی جس سے اس نے پہلے اپنی دوست کو ڈھكا۔‘

لیکن سنیچر کو ایڈشنل پولیس کمشنر ویویک گونگیا نے اس بارے میں ایک پریس کانفرس کی اور کہا کہ گشت کرنے والی پولیس کی گاڑیوں کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہوتا ہے اور وہ عملہ تھانے کی حدود سے آزاد رہتے ہوئے کارروائي کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے جتنی جلدی ممکن ہوسکا کارروائی کی اور اس متاثرین کو اس ہسپتال میں لے کر گئی جہاں انہیں جانے کی ہدایات ہیں۔

مذکورہ لڑکے کے انٹرویو کے بعد دلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ ٹی وی چینل کے خلاف تعزیرات ہند کے تحت اس جرم کے معاملے میں متاثرہ کی پہچان عام اور کچھ دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائےگا۔

"تقریباً 45 منٹ بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی لیکن آپس میں دائرہ اختیار طے کرنے میں انہیں وقت لگا۔ میں نے بار بار کوئی کپڑا دیے جانے کا مطالبہ کیا لیکن کسی نے بات نہ سنی اور کافی دیر بعد ایک بیڈ شیٹ پھاڑ کر دی گئی جس سے اس نے پہلے اپنی دوست کو ڈھكا۔"

اجتماعی زیادتی کی شکار ہوئئ لڑکی کا دوست

لیکن پولیس کے اس رویے پر بھی کئی جانب سے نکتہ چینی ہو رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پولیس اپنی خامیوں کو چھپانے کے لیے اس طرح کی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

ٹی وی چینل کو انٹرویو میں متاثرہ لڑکی کے دوست نے پورے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی دوست کے ہمراہ دہلی کے منركا سے تقریباً نو بجے رات کو بس میں چڑھے تھے۔

لڑکے نے کہا ہے کہ بس کی کھڑکیاں ڈھكي ہوئی تھیں اور وہ سمجھ گئے کہ بس میں موجود لوگوں نے انہیں پھنسا لیا ہے۔

ان کے مطابق انہوں نے اور متاثرہ لڑکی نے بھی کافی مزاحمت کی اور لڑکی کو بچانے کی کوشش کی تھی۔

’میری دوست نے 100 نمبر پر پولیس کنٹرول روم کو فون کرنے کی کوشش کی لیکن ملزمان نے اس کا موبائل فون چھین لیا۔ اس کے بعد ملزمان نے ہم دونوں کو نیچے پھینک دیا اور بس سے کچلنے کی بھی کوشش کی۔‘

ان کے مطابق ان کی دوست کے جسم سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔ لڑکے کا کہنا ہے کہ جب اسے اور متاثرہ لڑکی کو عریاں حالت میں بس سے پھینک دیا گیا تو انہوں نے راہ پر آتے جاتے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن بیس سے پچیس منٹ تک کوئی نہیں رکا۔

لڑکے کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ان کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن قریبی ہسپتال کی بجائے اس ہسپتال لے جایا گیا جو بہت دور تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔