دلی ریپ، پیر کو عدالت میں ملزمان کی پیشی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 13:34 GMT 18:34 PST

ساکیت کی فاسٹ ٹریک عدالت مقدمہ شروع ہوا ہے

بھارتی دارالحکومت دلی کی ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے تیئس سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے کیس کی سماعت شروع کر دی ہے۔

ملزمان کو پیر کے روز عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔

سنیچر کو ساکیت کی مخصوص فاسٹ ٹریک عدالت نے فرد جرم کا باقاعدہ نوٹس لیا اور اس کے مختلف پہلوؤں کے جائزے کے بعد سات جنوری کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔

جنسی زیادتی کا یہ واقعہ سولہ دسمبر دو ہزار بارہ کی رات اس وقت پیش آیا تھا جب مذکورہ لڑکی رات گئے اپنے دوست کے ہمراہ فلم دیکھنے کے بعد بس میں سوار ہوئی تھی اور اسے جنوبی دوراکا کے علاقے میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

دلی کی عدالت میں پیش چارج شیٹ کے مطابق بس میں لڑکی اور اس کے دوست کے ساتھ پہلے چھیڑ چھاڑ کی گئی اور پھر ان پر حملہ کیا گیا۔ جنسی زیادتی کی شکار لڑکی سنگاپور میں علاج کے دوران انتیس دسمبر کو چل بسی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے اس کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی اور اسے امید ہے کہ ایک ماہ کے اندر سماعت مکل ہوجائیگي۔

اس سے قبل جمعرات کو پانچ ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

"پولیس نے جو چارج شیٹ فائل کی ہے اس میں پانچ ملزمان پر اغوا کرنے، قتل کا اقدام کرنے اور گینگ ریپ جیسے الزامت لگائے گئے ہیں۔ اگر عدالت ان افراد کو قصوروار پاتی ہے تو انہیں موت کی بھی سزا سنائی جا سکتی ہے۔"

پولیس نے جو چارج شیٹ فائل کی ہے اس میں پانچ ملزمان پر اغوا کرنے، قتل کا اقدام کرنے اور گینگ ریپ جیسے الزامت لگائے گئے ہیں۔

اگر عدالت ان افراد کو قصوروار پاتی ہے تو انہیں موت کی بھی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ایک ملزم کی عمر کم تھی اس لیے ان پر بچوں کی عدالت میں مقدمہ چلےگا۔ پولیس نے اس مقدمے میں چھ افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں بس کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔

مقدمے کے پانچ ملزم دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں جبکہ نابالغ ملزم کو بچوں کے اصلاح خانے میں رکھا گیا ہے۔

جنوبی دلی کی ساکیت کی عدالت میں فرد جرم عائد کرتے وقت سکیورٹی وجوہات کے سبب ان ملزمان کو عدالت میں نہیں پیش کیا گيا تھا۔

بھارت میں ابتدائی علاج کے بعد اس لڑکی کو سنگاپور منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ انتیس دسمبر کو اس حملے کے نتیجے میں لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں تیس گواہ نامزد کیے ہیں جن میں دلی اور سنگاپور میں لڑکی کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔

ہلاک ہونے والی لڑکی کا نزعی بیان اور اس کے زخمی ساتھی کا بیان بھی اس مقدمے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔