جاوید میانداد نے دورہ بھارت منسوخ کردیا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 08:35 GMT 13:35 PST
جاوید میاں داد

جاوید میانداد کو دلی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری میچ میں شرکت کرنی تھی

بھارت میں پاکستان کے سابق کرکٹ کھلاڑي جاوید میانداد کو ویزا دینے پر تنازعے کے سبب پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان نے اپنا دورہ بھارت منسوخ کر دیا ہے۔

بھارتی حکومت نے جاوید میانداد کو دلی کا آخری ون ڈے میچ دیکھنے کے لیے ویزا جاری کیا تھا جس کی کئی جانب سے سخت مخالفت ہورہی تھی۔

اسی تنازعے کے سبب جاوید میانداد نے بھارت نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی حکومت نے جاوید میانداد کو ویزا دینے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں ویزا جاری کیا گیا ہے۔

لیکن حکمران جماعت کانگریس سمیت حزب اختلاف کی دیگر کئی جماعتوں نے پاکستان کے سابق کرکٹ کھلاڑی جاوید میانداد کو ویزا دینے کی سخت مخالفت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جاوید میانداد داؤد ابراہیم کے سمدھی ہیں جو بھارت میں ایک مطلوب شخص ہیں اور ان کے کسی بھی رشتے دار کو بھارت آنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکاء اشرف بھارت میں ہیں اور اطلاعات کے مطابق انہوں نے ہی میانداد کو مشورہ دیا کہ اس وقت سازگار حالات میں ان کی آمد تلخی کا سبب بن سکتی ہے اس لیے بہتر ہوگا کہ وہ نا آئیں۔

بھارت کے ایک انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے پاکستانی کرکٹ بورڈ کے ذرائع سے لکھا ہے کہ میانداد دلی کے آخری میچ میں شریک ہونے کے متمنی تھے لیکن اس تنازع سے وہ قطعی خوش نہیں ہیں اور ان کے لیے یہ بڑا تکلیف دہ فیصلہ ہے۔

"اس بات کی انکوائری ہونی چاہیے کہ یہاں کون لوگ ہیں جو وزارت خارجہ یا داخلہ میں داؤد ابراہیم کے لوگ ہیں۔ لگتا ہے کہ داؤد نے جیسے پورے ملک کو خرید لیا ہو، ہم ان کے ویزے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

شیو سینا

اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور سختگیر ہندو نظریاتی علاقائي پارٹی شیو سینا نے میانداد کا ویزا منسوخ کرنےکا مطالبہ کیا تھا۔

بی جے پی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے کہا تھا ’داؤد ابراہیم جیسے لوگ، جو دہشت گردی کی فیکٹریوں کو پال رہے ہوں، تو ان کا کوئی بھی قریبی رشتےدار یہاں سرکاری مہمان بن کے آئے تو بھارتی اسے قبول نہیں گریں گے‘۔

عباس نقوی نے کہا جس شخص سے بھی بھارتی نفرت کرتے ہوں اس سے منسوب کسی بھی شخص کو حکومت کو نہیں آنے دینا چاہیے۔

علاقائی جماعت شیو سینا کے ترجمان سنجے راؤت نے کہا تھا کہ ویزا معاملے کی تفتیش کی ضرورت ہے۔ ’اس بات کی انکوائری ہونی چاہیے کہ یہاں کون لوگ ہیں جو وزارت خارجہ یا داخلہ میں داؤد ابراہیم کے لوگ ہیں۔ لگتا ہے کہ داؤد نے جیسے پورے ملک کو خرید لیا ہو، ہم ان کے ویزے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔

بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید نے اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’یہ حکومت کا فیصلہ ہے، کیا حالات ہیں، کن امور پر غور ہوا، منظوری کب دی گئی اور اس میں کیا ہوا یہ سب حکومت کے داخلی معاملات ہیں اور اس میں آخر مشکل کیا ہے؟‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بغیر کسی بھی پاکستانی شہری کو ویزہ جاری نہیں کیا جاتا اور وزارت داخلہ تمام انٹیلیجنس ایجنسز، بشمول اپنے مشن سے، معلومات لیے بغیر ایسا نہیں کرتی ہے۔

لیکن سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ بعض دیگر سماجی کارکنان اور مذہبی رہنماؤں نے بھی حکومت کے فیصلے پر نکتہ چینی کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔