آر ایس ایس کے سربراہ کے بیان پر تنقید

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 11:39 GMT 16:39 PST
موہن بھاگوت

موہن بھاگوت کے بیان پر کئی حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی ہورہی ہے

بھارت میں ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان سے تنازع پیدا ہو گیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ شہروں میں ریپ زیادہ ہوتے ہیں اور دیہات میں ریپ کے واقعات کم ہوتے ہیں۔

تنظیم کے سربراہ بھاگوت نے کہا کہ شہروں میں مغربی تہذیب کا کافی اثر ہے۔

اطلاعات کے مطابق موہن بھاگوت نے اپنے حالیہ سلچر دورے کے دوران کہا تھا کہ ’اس طرح کے جرائم بھارت میں کم ہوتے ہیں اور انڈیا میں زیادہ ہوتے ہیں۔‘

خبروں کے مطابق انھوں نے اس کی تفصیل دیتے ہوئے کہا ’آپ ملک کے گاؤں اور جنگلوں میں دیکھیں جہاں کوئی اجتماعی جنسی زیادتی یا جرائم کے واقعات نہیں ہوتے۔ یہ شہری علاقوں میں ہوتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ رویہ ہندوستانی روایتی اقدار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔‘

آر ایس ایس کے ترجمان رام مادھو سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا ’انھوں نے صرف اتنا ہی کہا ہے کہ بھارتی روایت میں خواتین کا احترام کیا جاتا ہے۔‘

ترجمان نے کہا ’اگر اس تہذیب یا روایت سے دور جائیں گے تو آپ ایسے مجرمانہ معاملات میں ملوث ہوں گے۔ ان کے بیان کو کسی دوسری صورت میں لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

"جب آپ زمینی حقیقت سے دور ہوتے ہیں تب ایسی ہی بات کرتے ہیں۔ جنسی زیادتی کے معاملات رپورٹ اس وقت درج کی جاتی ہے جب پولیس تھانوں اور ڈاکٹروں کی سہولت ہو، جو بھارت میں ہے نہیں۔"

کرن بیدی

ادھر ریاست مدھیہ پردیش کے ایک وزیر کیلاش وجیئے ورگي نے بھی ایک ایسا ہی متنازع بیان دیا ہے۔

وزیر کا کہنا تھا ’معاشرے کے مسلمہ قاعدوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو سیتا کا ہرن ( اغوا) کیا جاتا ہے۔ لکشمن ریکھا ہر شخص کے لیے کھینچی ہوئی ہے (حدیں سب کے لیے مقرر ہیں)۔ اسے کو کوئی پار کرے گا تو راون سامنے بیٹھا ہے۔ وہ سیتا کو اغوا کر کے لے جائے گا۔‘

کانگریس کے رہنما دگ وجے سنگھ نے موہن سنگھ بھاگوت کے بیان پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ’بھارت اور انڈیا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بھارت کے لوگ ہی شہر سے اور شہروں سے گاؤں میں آئے ہیں۔ اس طرح کی واردات کہیں بھی ہو سکتی ہے اور اگر حادثہ ہو جائے تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جانے چاہیں۔‘

نیشنل کمیشن فار ویمن کی صدر ممتا شرما نے بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’انھیں اس طرح کی ذہنیت سے باہر آنا چاہیے۔ انھیں پہلے گاؤں میں جا کر دیکھنا چاہیے کہ وہاں عورتوں کا کیا حال ہے۔‘

سابق پولیس افسر کرن بیدی نے کہا ’جب آپ زمینی حقیقت سے دور ہوتے ہیں تب ایسی ہی بات کرتے ہیں۔ جنسی زیادتی کے معاملات رپورٹ اس وقت درج کی جاتی ہے جب پولیس تھانوں اور ڈاکٹروں کی سہولت ہو، جو بھارت میں ہے نہیں۔‘

موہن بھاگوت کے اس بیان پر سوشل میڈیا میں بھی سخت نکتہ چینی ہو رہی ہے اور بہت سی معروف شخصیات نے ان کے بیان کو مضحکہ خیز بتایا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔