دلی ریپ: تین ملزمان الزامات سے انکار کریں گے

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 15:03 GMT 20:03 PST
دلی کی عدالت

ملزمان کے وکیل کا کہنا ہے کہ مقدمہ منصفانہ ہونا چاہیے

اغوا، گینگ ریپ اور دلی میں ایک تیئس سالہ خاتون کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے پانچ ملزمان میں سے تین کے وکیل کا کہنا ہے کہ ملزمان سب الزامات کی تردید کریں گے۔

مکیش سنگھ، اکشے ٹھاکر اور رام سنگھ کے وکیل منوہر شرما کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت منصفانہ ہونی چاہیے۔

پانچوں ملزمان پر پیر کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت جمعرات کو ہو گی۔

اس مقدمے نے بھارتی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور خواتین کے ساتھ سلوک کے بارے میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

چھٹے سترہ سالہ مشتبہ ملزم پر، اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ چھوٹی عمر کے ہیں، نوجوانوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

جمعرات کو متوقع ہے کہ مجسٹریٹ اس مقدمے کو ایک خصوصی ’فاسٹ ٹریک‘ عدالت میں سماعت کے لیے منتقل کر دیں۔

اگر ملزمان پر جرم ثابت ہوتا ہے تو انہیں سزائے موت ہو سکتی ہے۔ استغاثہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں۔

نوجوان لڑکی اور ان کے ساتھی پر سولہ دسمبر کو جنوبی دلی میں ایک بس پر سفر کے دوران حملہ کیا گیا تھا۔ دو ہفتے بعد ان کا سنگاپور کے ایک ہسپتال میں انتقال ہو گیا۔

عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن اور دیگر عوام ریپ کے خلاف سخت قوانین اور پولیس میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ ناقدین کا خیال ہے کہ پولیس اکثر حملہ آووروں کے خلاف فردِ جرم عائد نہیں کرتی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔