بھارت: ایم آئی ایم کے اکبرالدین اویسی گرفتار

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 14:14 GMT 19:14 PST
اکبرالدین اویسی

اکبرالدین اویسی حیدرآباد کے چندرائن گٹا کے علاقے سے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں مجلس اتحادالمسلمین یعنی ایم آئی ایم کی نشست پر منتخب ہونے والے رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی کو متنازع بیان دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حیدرآباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ان کے خلاف اس الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اكبرالدين اویسی ایم آئي ایم کے صدر اور لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اسدالدين اویسی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ ان پر ریاست کے کئی علاقوں میں جاکر فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے والی تقاریر کرنے کے الزامات ہیں۔

ان کے خلاف وکیل كاشم سیٹّي كرونا ساگر نے گزشتہ جمعہ کو عدالت میں شکایت درج کرائی تھی۔

کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ اكبرالدين اویسي کی تقریر دوسرے مذاہب اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی ہے اور مذہب کی بنیاد پر دو گروہوں کے درمیان ہم آہنگی بگاڑنے کی کوشش ہے۔

اكبرالدین گزشتہ دو ماہ سے ریاست کے کئی اضلاع میں دورے کر کے عوامی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ ان کا خطاب ایم آئی آیم کے چینل 4 ٹی وی پر بھی نشر ہوتا ہے۔

بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے یہ پورا معاملہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ بھارت کی حزب اختلاف کی اہم جماعت بی جے پی اور اس سے وابستہ دوسری کئی ہندو تنظیمیں اكبرالدين کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہی ہیں۔

بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے دلی میں اكبرالدين اویسي کے رہائش گاہ پر حملہ کیا ہے اور وہاں توڑ پھوڑ کی ہے۔

"اس ملک میں ابھی افراتفری کا عالم ہے، کسی کو ملک کی فکر نہیں ہے۔ پچیس کروڑ مسلمانوں کو پہلے تو رجھايا جاتا ہے، جھوٹے وعدے کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔"

رکن اسمبلی، اکبرالدین اویسی

ان پر الزام ہے کہ عادل آباد ضلع کے نرمل قصبے میں ایک عام جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کافی اشتعال انگیز بیان دیے جن کی ویڈیو یو ٹیوب پر بھی موجود ہے۔

اس میں اویسي کہتے ہیں کہ ’اس ملک میں ابھی افراتفری کا عالم ہے، کسی کو ملک کی فکر نہیں ہے۔ پچیس کروڑ مسلمانوں کو پہلے تو رجھايا جاتا ہے، جھوٹے وعدے کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔‘

اتنا ہی نہیں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جس ملک میں مسلمانوں نے ہزاروں سال تک حکومت کی ہے وہاں انہیں دوسرے لوگوں کے دروازے پر کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ اویسي کے مطابق اس ملک میں کیرالہ اور آندھرا پردیش کو چھوڑ کر کہیں بھی مسلمانوں کی آواز کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔

اویسي نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ممبئی میں انیس سو ترانوے میں دھماکے اس لیے ہوئے کیونکہ ان دھماکوں سے پہلے بابری مسجد گرائی گئی تھی۔

انہوں نے اپنی متنازعہ تقریر میں یہ بھی کہا کہ ’پاکستان سے آکر معصوم لوگوں کو قتل کرنے والے اجمل قصاب کو تو پھانسي پر لٹکا دیا جاتا ہے لیکن بھارت کے اندر سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کرنے والے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔‘

اکبرالدین

اکبرالدین اویسی مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کے بھائی ہیں۔

اكبرالدين نے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’گجرات فسادات کے ذمہ دار نریندر مودی پر ایک مقدمہ تک درج نہیں ہوتا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ فسادات کے گنہگار ہونے کے باوجود وہ وزير اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔‘

اس سے قبل منگل کو حیدرآباد کے ایک سرکاری ہسپتال میں اویسی کا طبی معائنہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ دو سال پہلے ان پر ایک جان لیوا حملہ ہوا تھا جس میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی دائیں ران میں لگنے والی ایک گولی کی وجہ سے ان کی ایک نس دب رہی ہے جس کی وجہ سے وہ مزید چل پھر نہیں سکتے ہیں۔

تقریبا تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس معائنے میں دل اور دوسری امراض کے کئی ماہر ڈاکٹر شامل تھے۔

اس طبی معائنے کی نوبت اس وقت پیش آئی جب اكبرالدين نے خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کے سامنے حاضر ہونے کے لیے چار دن کی مہلت مانگی تھی۔

اکبر الدین کے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ تمام کیس سیاسی وجوہات کی بنا پر اکبرالدین کے خلاف درج کئے گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔