بھارت کے کمبھ میلے کا جادو

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 جنوری 2013 ,‭ 14:33 GMT 19:33 PST

بھارت مختلف نظاروں کا ملک ہے۔ یہاں کروڑوں غریب لوگ بستے ہیں۔ یہ ایک قدیم ثقافت اور تہذیب والا ملک ہے۔

بھارت میں رہتے ہوئے مجھے برسوں بیت چکے اور اس دوران میں نے متعدد شاندار نظارے دیکھے ہیں۔ لیکن مہا کمبھ جیسا شاندار نظارہ میں نے کبھی نہیں دیکھا جہاں میں دو بار گیا ہوں۔

میں نے کئی جگہ کئی بار بھیڑ کو جمع ہوتے ہوئے دیکھا ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جو بھیڑ مہا کمبھ میں جمع ہوتی وہ کبھی کہیں نہیں دکھائی دی۔

الٰہ آباد میں گنگا کا دھندلا پانی جمنا کے نیلے پانی سے ملتا ہے۔

دونوں بار جب میں مہا کمبھ گیا مجھے بھارت میں اب بھی قدم تہذیب کے موجودگی کا احساس ہوا۔

جو بھی شخص مہا کمبھ میلے کا لطف اٹھانا چاہتا ہے اسے اس میلے کے مختلف پہلوؤں کو سراہانا ہوگا کیونکہ جو ہم اس میلے میں دیکھتے وہ کہیں اور نہیں۔

مہا کمبھ ایک عظیم اجتماع ہے ۔ کچھ لوگوں کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ہے لیکن مہا کمبھ کی اہمیت صرف مذہبی اشنان یا غسل کے لیے دوسری وجوہات سے بھی ہے۔

کمبھ میلا

مہا کمبھ میں حصہ لینے لے کے لیے پوری دنیا سے عقیدت مند آتے ہیں

مہا کمبھ کا سب سے بے مثال نظارہ وہ ہوتا ہے جب بھیڑ کے درمیان عریاں سادھو نغاڑوں کی تال پر ناچتے ہیں۔ یہ سادھو ناچتے، ہوا میں اچھلتے دریا کی طرف اشنان کرنے کے لیے بڑھتے ہیں۔

ایسے بھی سادھو ہیں جو عجیب و غریب کام کرتے نظر آتے ہیں۔

میں نے ایک سادھو کو دیکھا جس نے طویل وقت سے اپنا ایک ہاتھ کھڑا رکھا تھا جس کی وجہ سے اس کی جلد سوکھ گئی تھی۔ اس کے ناخن بڑھے ہوئے تھے۔ ایک دوسرا سادھو ایک پاؤں پر کھڑا ہوا تھا۔ اور ایک تیسرا سادھو كانٹوں کے بستر پر لیٹا ہوا تھا۔

كمبھ میلے کے دوران مذہبی تعلیم بھی دی جاتی ہیں جو ہندو روایات اور رواداری ظاہر کرتا ہے۔

ان اپدوشو یا مذہبی خطبوں میں میں کچھ باتوں میں مجھے قدامت پسندی نظر آئی، کچھ باتوں میں کافی گہرائی تھی اور کئی باتوں نے مجھے کافی حیران کیا۔

پندرہویں صدی کے مہاتما کبیر کے بھگتوں نے مجھے بتایا کہ وہ دیوتاؤں کی تصاویر کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق گنگا میں اور نل کے پانی سے نہانے میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن کسی نے بھی ان کی باتوں کی مخالفت نہیں کی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہندو مذہب میں مختلف عقیدوں سے بھرا ہے۔

كمبھ اور سیاست

بھارت میں سیاست کا وجود زندگی کے ہر شعبے میں ہے اور كمبھ میلہ بھی سیاست سے خالی نہیں ہے۔

سنہ انیس سو نواسی میں دائیں بازوں کی جماعت بی جے پی نے ہندو قوم پرستی کا سہارا لے کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایک خیمے میں نے بعض لوگوں کو خطاب کرتے سنا وہ ایودھیا میں بابری مسجد کے خلاف باتیں کررہے تھے۔

ان کے مطابق یہ مسجد بھگوان رام کی پیدائش کے مقام پر بنائی گئی ہے اور وہ اس مسجد کو گرا کر مندر کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے تھے۔

كمبھ میلے کے دوران کافی کاروبار بھی ہوتا ہے۔ یہاں ہر طرح کے اسٹال ہوتے ہیں جو پوجا کے سامان سے متعلق ہر طرح کی چیزیں فروخت کرتی ہیں۔

کرائے پر کشتیوں کا کام عروج پر رہتا ہے۔ پجاریوں کے لئے بھی کافی کام ہوتا ہے۔ وہ نسل میں تبدیلی کرنے کے علاوہ مردوں کی روح کی امن کے لئے پوجا کرواتے ہیں۔

دونوں مہا کمبھ کا انعقاد بہترین تھا۔ خیموں کی مدد سے ایک بڑا شہر کھڑا کیا گیا تھا، کئی کلو میٹر لمبی سڑکیں بنیں اور کئی پلوں کی تعمیر ہوئی۔

انتظامیہ نے بھگتوں کے لئے کھانا، پانی، صفائی اور بجلی کا انتظام کیا تھا۔ اپنے برے رویّے کے لیے بدنام بھارتی پولیس والے لوگوں سے بہت طریقے سے بات کر رہے تھے اور انہیں گنگا ندی کے کنارے لے جا رہے تھے۔ وہ انہیں ایک لائن میں کھڑا کر رہے تھے تاکہ نہاتے وقت سیکورٹی برقرار رہے۔

ایسے حالات میں جب کئ دوسرے ممالک میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو جائے لیکن یہاں ہندوستانی لوگوں کا رویہ انتہائی منظّم تھا۔

سنہ انیس سو نواسی کے کمبھ میلے کے اہم اشنان کے دن میں بھگتوں کے ساتھ پریس کیمپ کی طرف جا رہا تھا۔ اپنے تجربے کے بارے میں نے لکھا تھا، ’میں نے آج تک اتنی خاموش بھيڑ نہیں دیکھی۔ یہاں کوئی جنون نہیں ہے، صرف عقیدت ہے اور اسی کی وجہ سے عجیب و غریب سکون بھی ہے‘۔

كمبھ میلے میں یقین کا اہم مقام ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔