دلی ریپ: مقدمہ فاسٹ ٹریک عدالت منتقل

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 15:42 GMT 20:42 PST
دلی کی عدالت

ملزمان کے وکیل کا کہنا ہے کہ مقدمہ منصفانہ ہونا چاہیے

بھارتی دارالحکومت دلی کی عدالت نے گینگ ریپ کیس کو فاسٹ ٹریک عدالت کو ٹرانسفر کردیا ہے جہاں اب باقاعدہ طور پر مقدمہ کا آغاز ہوگا۔

دلی گينگ ریپ کا ابتدائي ٹرائل جنوبی دلی کی عدالت میں ہوا جس میں فرد جرم عائد کی گئي اور وکلاء کو مقرر کیا گيا۔

اس مقدمے کے ان پہلوؤں کی تکمیل کے بعد ہی جمعرات کو عدالت نے مقدمہ فاسٹ ٹریک عدالت کے حوالے کر دیا جہاں اب اس کی باقاعدہ سماعت اکیس جنوری سے شروع ہوگي۔

اس کیس کے پانچ ملزمان کا مقدمہ تو اسی فاسٹ ٹریک عدالت میں چلےگا لیکن چھٹے ملزم کی عمر اگر 18 سال سے کم ثابت ہو جاتی ہے تو پھر اس کی سماعت نابالغوں کی عدالت میں ہوگی۔

ابھی اس معاملے کی جانچ ہورہی ہے اور جلد ہی اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ چھٹا ملزم نابالغ ہے یا نہیں۔

"ابھی اس کیس میں بہت سے سوال باقی ہیں۔ جن حالات میں لڑکی کی موت ہوئی، اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ جنسی زیادتی کی متاثرہ لڑکی کو جب سنگاپور لے جایا گیا اس وقت تک وہ زندہ بھی تھیں یا نہیں۔"

ادھر اس کیس کے اہم ملزم رام سنگھ کے وکیل وی آنند کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے آخر تک اس مقدمے کی ہر روز سماعت ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس کیس کو دلی یا اتر پردیش سے باہر منتقل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کریں گے کیونکہ ان کے مؤکل رام سنگھ کو نہیں لگتا کہ دلی میں انہیں انصاف مل سکے گا۔

وی آنند کا کہنا ہے کہ دلی میں اس کیس کا فیصلہ عدالت کی بجائے میڈیا میں کیا جا رہا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔

دیگر دو ملزمان اکشے ٹھاکر اور ونے شرما کے وکیل اے پی سنگھ نے کہا کہ ’ابھی اس کیس میں بہت سے سوال باقی ہیں۔ جن حالات میں لڑکی کی موت ہوئی، اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ جنسی زیادتی کی متاثرہ لڑکی کو جب سنگاپور لے جایا گیا اس وقت تک وہ زندہ بھی تھیں یا نہیں۔‘

16 دسمبر 2012 کو دلی کی ایک بس میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی تھی جنہیں شدید زخم آئے تھے۔

بعد میں لڑکی کی سنگاپور کے ایک ہسپتال میں 29 دسمبر کو موت ہوگئی تھی۔ اس واقعے کے بعد دلی میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور انصاف کی مانگ کے حوالے سے حکومت پر زبردست دباؤ بنایا گيا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔