بھارت: ریپ پر سخت سزا کی تجویز لیکن موت نہیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 14:36 GMT 19:36 PST
بھارت میں گینگ ریپ پر مظاہرہ

دسمبر کے مہینے میں دلی میں ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ نے خواتین کے ساتھ سماج کے سلوک پر سوالیہ نشان لگائے۔

بھارتی دارالحکومت دلّی میں دسمبر کے مہینے میں ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعے کے بعد ریپ کے قوانین پر تجاویز پیش کرنے کے لیے تشکیل کردہ کمیشن نے خواتین ججوں کے ذریعے تیزی سے عدالتی کارروائی کی سفارش کی ہے۔

بھارت کے سابق چیف جسٹس جسٹس جے ایس ورما کی قیادت میں قائم اس کمیشن نے سزائے موت کے بجائے طویل مدتی سزاؤں اور عمر قید کی تجویز پیش کی ہے۔

بھارت کے وزیر قانون نے کہا کہ اس رپورٹ پر ’حکومت جلد توجہ‘ دے گی۔

گزشتہ ماہ دسمبر میں ایک تیئیس سالہ طالبہ کے ساتھ دلّی میں جو گینگ ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا اس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اور ملک میں خواتین کے ساتھ سماج کے رویہ پر بحث چھڑ گئی تھی۔

جسٹس ورما نے کہا کہ ان کی تین رکنی ٹیم کو ریپ قانون کے ضمن میں اصلاح کے لیے اسّی ہزار جوابات موصول ہوئے لیکن سرکاری محکموں اور وزارتوں کا رویہ ٹھنڈا رہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس رپورٹ پر پارلیمنٹ میں بحث كروائے گی۔

بدھ کو بھارت کی وزارت داخلہ کو پیش گئی رپورٹ میں مندرجہ ذیل شفارشات تھیں:

  • جنسی تشدد کی تعریف میں توسیع اور وضاحت کی جائے
  • خواتین کے خلاف جرائم میں تیزی کے ساتھ عدالتی کاروائی اور سماعت کی جائے۔
  • پولیس کو زیادہ جوابدہ بنایا جائے۔
  • قانون کا بہتر طور سے نفاذ ہو اور قانون نافذ کرنے والوں ذہن میں تبدیلی لائی جائے۔
  • انسانوں کی سمگلنگ کے مرتکب اور لڑائی والے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے جنسی تشدد کا مرتکب پائے جانے پر ان کے خلاف کڑے اقدام کیے جائیں۔

پینل نے یہ بھی کہا کہ جن معاملوں میں ریپ ہوا ہو اور اس کی شکار کی موت ہوگئی ان معاملوں میں اس کے مرتکب کو عمرقید کی سزا دی جائے۔ پینل نے اس معاملے میں سزائے موت کی تجویز نہیں دی حالانکہ بہت سے شہری اس کے حق میں تھے۔

دلّی پولیس کمشنر نیرج کمار

دلّی پولیس کمشنر نیرج کمار کی دلی گینگ ریپ معاملے میں کئی حلقوں میں تنقید کی گئي ہے

بہر حال پینل نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں صوبوں کے اعلی پولیس اہلکاروں کی جانب سرد مہری کا سامنا رہا اور بیشتر معاملوں میں انہیں جواب نہیں ملے۔

پولیس کمیشنروں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جسٹس ورما نے کہا کہ ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے پولیس کمشنروں نے ان کے پینل کی اپیل کو نظر انداز کیا اس کےپیش نظر ان کی تقرریوں کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔

ورما نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیاہے کہ دہلی میں گینگ ریپ کے واقعہ کے بعد ملک کے داخلہ سکریٹری نے دلی پولیس کے کمشنر کو کیونکر شاباسي دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر، شمال - مغربی ریاستوں، چھتیس گڑھ اور اڑیسہ جیسے شورش زدہ علاقوں میں خواتین کی حفاظت کا انتظام کرایا جائے۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ان علاقوں میں ریپ کے واقعات کو عام جرم کے زمرے میں لایا جانا چاہئے۔

اس رپورٹ میں مسلح افواج کے لیے خصوصی اختیارات کےقانون کا فوری طور پر جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس کمیٹی کی طرف سے بتایا گیا کہ دلّی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت نے پولیس نظام کے ان کے کنٹرول میں نہیں ہونے کا مسئلہ اٹھایا۔

وزیر اعلی نے کہا کہ پولیس نائب گورنر کے توسط سے وزارت داخلہ کے تحت ہے اس لیے وہ کچھ نہیں کر پائیں۔ اس ابہام کو جلدی سے واضح کرنے کی بابت بھی بات کہی گئي۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔