’ایل او سی پر ہمارے فوجیوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 25 جنوری 2013 ,‭ 17:52 GMT 22:52 PST
پرنب مکھرجی

پرنب مکھر جی کا ملک کے نام صدر کی حیثیت سے یہ پہلا خطاب تھا۔

بھارت کے صدر پرنب مکھرجی نے کشمیر میں ایل او سی پر ہونے والے حالیہ تنازعات پر کہا کہ ’ایل او سی پر ہمارے فوجیوں کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے‘۔

یہ بات صدر پرنب مکھرجی نے ملک کے چونسٹھویں یوم جمہوریہ کے موقعے پر اپنے پہلے خطاب میں کہی۔

انھوں نے کہا کہ ’پڑوسیوں میں اختلافات تو ہو سکتے ہیں اور سرحدوں پر تنازعات بھی ذیلی عنوان کے تحت ہو سکتے ہیں لیکن غیر سرکاری عوامل کی جانب سے دہشت گردی کو سپانسر کرنا پورے ملک کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے‘۔

انھون نے اس بابت یہ بھی کہا کہ ’ہم سرحد پر امن کے خواہاں ہیں اور دوستی کی امید میں ہمیشہ ہاتھ بڑھانے کے لیے تیار ہیں لیکن دوستی کے اس ہاتھ کو ہمیشہ بڑھا ہوا نہیں دیکھا جا سکتا۔‘

اس موقعے سے انھوں نے گزشتہ ماہ دلی میں ایک تیئیس سالہ لڑکی کے ساتھ چلتی بس میں گینگ ریپ کے واقعے سے بات شروع کی اور کہا کہ اس واقعے نے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

انھوں نے کہا ’انیس سو سینتالیس میں ہم نے انگریزوں سے اس لیے آزادی حاصل نہیں کی تھی کہ ہم اپنے ہی ملک کے لوگوں کو آزادی سے محروم رکھیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ آئین نے دوسری آزادی دی تھی اور اس بار جنس، ذات پات اور سماج میں پھیلے روایتی عدم مساوات سے آزادی کی باری ہے۔

ملک کی ترقی کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ چھ دہائیوں میں ہماری ترقی کی شرح تین گنا ہو گئی ہے۔‘

انھوں نے خواتین کی عزت و ناموس کی پاس داری کی بات کی اور کہا کہ ملک و قوم کے لیے یہ وقت ہے جب وہ اپنی اخلاقی عینک کو درست کریں۔

بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقعے سے دارالحکومت دلی میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور پچیس ہزار پولیس تعینات کی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔