181: بیشتر شکایات پیچھا کرتے مردوں کی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 25 جنوری 2013 ,‭ 12:16 GMT 17:16 PST
ہلیپ لائن کی ایک ملازمہ

اس ہلیپ لائن پر ایک دن میں ڈھائی ہزار سے زیادہ فون آتے ہیں

دلی گینگ ریپ واقعہ کے بعد حکومت کی جانب سے دلی کی خواتین کی مدد لیے شروع کی گئی ہیلپ لائن پر بیشتر فون خواتین کا پیچھا کرنے والے مردوں کے شکایت کے لیے آتے ہیں۔

اس ہیلپ لائن کا نمبر ہے 181 اور اس میں سولہ خواتین کام کر رہی ہیں جو اس ہیلپ لائن پر آنے والے سبھی فون کا جواب دیتی ہیں۔

چوبیس گھنٹے کام کرنے والی اس ہلیپ لائن ہمیشہ بجتا رہتا ہے۔ ہر دن یہاں تقریباً ڈھائی ہزار سے تین ہزار فون آتے ہیں اور شام ہونے کے بعد فون زیادہ آتے ہیں۔

اس ہیلپ لائن کی سینیئر اہلکار خدیجہ بتاتی ہیں ’زیادہ تر فون ایسی خواتین کے آتے ہیں ہیں جن کی شکایت ہوتی ہے کہ بعض مرد ان کا پیچھا کررہے ہیں۔ پھر ایسے بہت سارے معاملے سامنے آتے ہیں جن میں بعض مرد خواتین کو نازیبا ایس ایم ایس بھیج کر ہراساں کررہے ہوتے ہیں۔‘

اس کا علاوہ وہ بتاتی ہیں کہ بہت سارے معاملے پولیس کی شکایت سے متعلق ہوتے ہیں۔ ’خواتین فون کرتی ہیں کہ پولیس کا رویہ ان کے ساتھ صحیح ہے پولیس ان کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔‘

اس کال سینٹر کی سپروائزر سویتا کا کہنا ہے کہ ’بعض معاملات ایسے بھی سامنے آئے ہیں جن میں خواتین ہمیں بتاتی ہیں کہ جو وہ جنسی زيادتی کی شکایت پولیس تھانے میں درج کرنے جاتی ہیں تو پولیس ایف آئی آر میں غلط دفعہ لگادیتی ہے۔ ان کا پولیس پر بھروسہ اٹھ چکا ہوتا ہے اور اسی کے بعد وہ اس ہلیپ لائن پر فون کرتی ہیں۔‘

سویتا بتاتی ہیں کہ وہ اس طرح کی شکایات کے سلسلے میں ڈی سی پی یا اے سی پی سے رابطہ کرتی ہیں جو اس معاملے میں کارروائی کرتے ہیں۔

ایسی کالز بھی آتی ہیں

  • ’میری بیوی میرے ساتھ مار پیٹ کرتی ہے، میں کہاں جاؤں؟‘
  • ’انڈیا کا کتا بہت بھونكتا ہے، کچھ کریں ...‘
  • ’میں تو صرف چیک کر رہا تھا کہ آپ رات کو فون اٹھاتے ہیں یا نہیں‘
  • ’میرا شوہر مجھ سے روٹھ کر چلا گیا ہے، انہیں واپس لے آؤ‘

واضح رہے کہ یہ کال سینٹر دلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کے دفتر میں واقع ہے۔

سویتا بتاتی ہیں کہ ’جب ہم پولیس تھانے میں فون کرکر یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کے دفتر سے بول رہے ہیں تو سویا ہوا پولیس اہلکار بھی جاگ جاتا ہے اور فوراً شکایت درج کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو عام لوگوں کی شکایات درج نہیں کرتے ہیں۔‘

خدیجہ بتاتی ہیں کہ اس کال سینٹر میں کام کرنے والی بیشتر خواتین وہ ہیں جو خود اپنی ذاتی زندگی میں جنسی استحصال کا شکار رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ شکایت کرنے والی خواتین کی پریشانی کو بہتر طریقے سے سمجھ پاتی ہیں اور فوراً ان کی مدد کرتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ شکایت کرنے والی خواتین میں ایک بڑی تعداد سکول جانے والی بچیوں کی بھی ہے جو انہیں فون کرکے بتاتی ہیں کہ کس طرح سے جب وہ سکول سے باہر نکلتی ہیں تو لڑکے جھنڈ بناکر سکول کے باہر کھڑے ہوجاتے ہیں اور انہیں پریشان کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں ایسے بھی فون آتے ہیں جن میں خواتین صرف ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ دلی میں سولہ دسمبر کی رات کو ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے بعد خواتین کی سیکورٹی سے متعلق احتجاج کے بعد دلی حکومت نے یہ ہیلپ لائن شروع کی تھی۔ کہا جارہا ہے کہ اس ہیلپ لائن میں جس تعداد میں خواتین کے مدد کے لیے فون آتے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دلی میں خواتین کتنی غیرمحفوظ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔