کشمیر: لائن آف کنٹرول پر تجارت پھر بحال

آخری وقت اشاعت:  پير 28 جنوری 2013 ,‭ 13:30 GMT 18:30 PST

ایل او سی پر کشیدگي کے بعد تجارت دوبارہ بحال ہوگئی

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پونچھ ضلع کے چکاندا، باغ اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے راولاکوٹ کے رابطہ مراکز پر پیر کو آمدورفت بحال ہوگئی اور دونوں جانب سے تین سو سے زیادہ افراد نے لائن آف کنٹرول کو پار کیا۔

پونچھ میں ایل او سی تجارت کے نگران افسر پون کوتوال نے بی بی سی کو بتایاکہ ’آج صرف آمد و رفت شروع ہوئی ہے، تجارت منگل کے روز سے بحال ہوگی‘۔

واضح رہے کہ وادی کشمیر کے اُوڑی اور چکوٹھی رابطہ مرکز سے مسافروں کی آمدورفت اور تجارت اس سارے عرصے میں بغیر کسی خلل کے جاری رہی۔ اس رابطہ مرکز کے نگران افسر نور احمد بابا نے بتایا کہ ’ کنٹرول لائن پر کشیدگی کا اثر صرف پونچھ میں تھا، ہماری طرف سے تو آمد و رفت اور تجارت بغیر خلل کے جاری تھی۔‘

پونچھ میں تعینات ایل او سی تجارت کے نگران افسر پون کوتوال کے مطابق پیر کی صبح سے ہی چکاندا باغ رابطہ مرکز پر لوگوں کا تانتا بندھا تھا اور درجنوں لوگ علی الصبح پیدل ہی رابطہ مرکز پار کرکے پاکستانی زیرانتظام کشمیر کی طرف چلےگئے۔

واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں رابطہ مراکز کو پار کرنے والے مسافروں کی باقاعدہ جانچ پڑتال ہوتی ہے اور متعلقہ ایجنسیوں کی کلیرنس کے بعد ہی انہیں سفر کی اجازت دی جاتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے چار سال کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ تین سو سے زیادہ مسافروں نے ایل او سی کو پار کیا۔ مسٹر کوتوال نے بتایا کہ لوگوں کو خدشہ ہے کہ کہیں دوبارہ حالات کشیدہ نہ ہوجائیں اسی لیے وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے کنٹرول لائن کو عبور کررہے ہیں۔ اس رابطہ مرکز سے تجارت کا سلسلہ کل سے شروع ہورہا ہے۔

"آج صرف آمد و رفت شروع ہوئی ہے، تجارت منگل کے روز سے بحال ہوگی۔"

اِدھر تاجر حلقوں نے لائن آف کنٹرول پر امن کی واپسی کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاجروں کی انجمن کے رہنما ڈاکڑ مبین شاہ کہتے ہیں کہ کشمیر کے منقسم خطوں کے درمیان تجارت کو آزاد کیا جائے تو یہ خطہ معاشی ترقی میں جاپان کا ہمسر ہوجائے گا۔

ڈاکٹر شاہ کا کہنا ہے کہ اس راستے سے تجارت کا حجم ایک لاکھ کروڑ تک بڑھ سکتا ہے، لیکن دونوں ملک اس راستے پر باقاعدہ تجارت سے ابھی بھی خائف ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ دس سال سے ایل او سی پر جنگ بندی ہے تاہم وقفے وقفے سے دونوں ملک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے دونوں افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر ایل او سی عبور کر کے ایک دوسرے کے فوجیوں کو قتل کرنے کا الزم عائد کیا۔ عالمی برادری نے دونوں ملکوں سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔

ایل او سی پر کشیدگی کی وجہ سے آبی وسائل کی شراکت پر تنازعہ سے متلعق پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو ملتوی کیا گیا ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کنٹرول لائن پر تجارت اور عوامی آمدورفت بحال ہونے سے کشیدگی ختم ہوجائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔