’تاج محل سرکاری خزانے کا غلط استعمال‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 01:09 GMT 06:09 PST

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر ترقی، اقلیتی بہبود، مسلم وقف، حج اور پارلیمانی وزیر محمد اعظم خان نے آگرہ کے تاج محل کو ایک طرح سے عوام کی کمائی اور سرکاری خزانے کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔

اتوار کو مغربی اتر پردیش میں ایک سرکاری تقریب میں تقریر کرتے ہوئے محمد اعظم خان نے 1992 کے اپنے پرانے بیان کی یاد دلائی جب ایودھیا کی متنازع بابری مسجد کے خلاف مہم چلائی جا رہی تھی۔

انہوں نے اپنا پرانا بیان دہراتے ہوئے کہا ’اگر لوگ مسجد کے بجائے تاج محل گرانے چلیں تو میں ان سے آگے چلوں گا۔ اس لیے کہ کسی بھی حکمران کو عام عوام کے خزانے سے اپنی محبوبہ کے لیے تاج محل بنانے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔‘

پھر انہوں نے کہا کہ اگر شاہ جہاں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا تو پھر ’مایاوتی کو بھی سرکاری خرچ سے اپنی مورتی لگانے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔‘

یاد رہے کہ مایاوتی نے اپنے ساتھ سیاسی گرو كاشي رام کی مورتی بھی سرکاری خزانے سے لگوائی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے سنہ 2005 میں جب شیعہ اور سنی برادری نے تاج محل پر اپنا مالکانہ حق ظاہر کیا تھا تو اس وقت اعظم خان نے تاج محل کو دو قبروں والا قبرستان کہا تھا۔

لیکن اعظم خان کوئی پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے تاج محل کے بارے اس طرح کا اعتراض کیا ہو۔

ویسے شاہ جہاں کے زمانے میں چاہے تاج محل سرکاری خزانے کی فضول خرچی ہی رہا ہو، مگر اب تو تاج محل سے حکومت کی آمدنی خوب ہوتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق گزشتہ سال تاج محل کی ٹکٹ کی مد میں حکومت کو 70 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔