جنسی تشدد سے متعلق آرڈیننس کی منظوری

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 فروری 2013 ,‭ 07:19 GMT 12:19 PST
بھارت میں ریپ کے خلاف قانون

بھارت میں ریپ کے خلاف آرڈیننس جاری ہوا ہے

بھارت کے صدر پرنب مکھر جی نے خواتین کی تنظیموں کی مخالفت کے باوجود جنسی جرائم کے خلاف آرڈیننس پر دستخط کر دیے ہیں۔

بھارتی صدر کے دستخطوں کے بعد یہ قانون بن گیا ہے لیکن اس کے نفاذ کے لیے پارلیمان سے چھ ہفتے کے اندر اندر اس کی منظوری ضروری ہے۔ بھارتی پارلیمان کا اجلاس اکیس فروری سے شروع ہو رہا ہے۔

اس سے پہلے جمعہ کو مرکزی کابینہ نے خواتین کے خلاف جرائم کو روکنے کے لیے جسٹس ورما کمیٹی کی تجاویز کے مطابق قانون کو سخت بنانے اور ترمیم کے لیے آرڈیننس کی منظوری دی تھی۔

بھارت کی تقریباً تمام اہم خواتین تنظیموں نے برسر اقتدار یو پی اے حکومت کی طرف سے خواتین کے خلاف ہونے والے جنسی جرائم پر لائے جانے والے آرڈیننس کو ’عوام کے ساتھ دھوکہ‘ قرار دیا تھا۔

خواتین تنظیموں نے صدر پرنب مکھرجی سے گزارش کی ہے کہ اس آرڈیننس پر دستخط نہ کریں کیونکہ اس میں جسٹس ورما کمیشن کی سفارشات کو پوری طرح سے شامل نہیں کیا گیا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ورندا گروور نے بھارتی خبررساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’یہ آرڈیننس عوام کے اعتماد کے ساتھ دھوکہ ہے۔ جس طرح سے حکومت بدحواسی میں بغیر کسی شفافیت کے اس آرڈیننس کو لے کر آئی ہے اسے کے تئیں ہم فکر مند ہیں۔‘

کئی تنظیموں سے منسلک خواتین کارکنوں نے کہا ہے کہ جب چند ہی ہفتوں میں پارلیمنٹ کا اجلاس ہونے والا ہے تو پھر اس سے قبل ہی حکومت نے آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔

آل انڈیا پروگریسیو ایسوسی ایشن کی کویتا کرشنن کا کہنا ہےکہ ’اس فرمان میں جی ایس ورما کمیٹی کی کئی تجاویز کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے اس آرڈیننس میں عوام کو شریک نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان میں لائی گئي تبدیلیوں پر بات چیت یا بحث ہوئی ہے۔‘

خواتین تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس معاملے میں ہر طرح کی سوچ کو ساتھ لے کر کام کرنا چاہئے تھا۔

خواتین تنظیموں کا اعتراض ہے کہ شورش زدہ اور تصادم والے علاقوں میں خواتین پر ہونے والے تشدد جیسے مسائل کو اس آرڈینینس میں کوئی جگہ نہیں ملی ہے۔

تنظیموں نے کہا ہےکہ ’شادی کے تحت ہونے والی جنسی زیادتیوں، ہم جنس پرستی کے مفادات کو اس آرڈیننس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں جسٹس ورما کمیٹی کی رپورٹ میں سزائے موت نہ دیئے جانے کی تجاویز کو بھی حکومت نے مسترد کیا ہے۔‘

خواتین کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو جنسی زیادتیوں کا شکار خواتین کی آباد کاری، مقررہ وقت میں معاملات کے حل، اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کو جنسی جرائم سے کیسے بچایا جایا جیسے مسائل پر توجہ دینا چاہئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔