کیرالہ کی’سہاگن بیوائیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 06:20 GMT 11:20 PST
خلیج

بھی بحیرہ عرب کے اس پار آباد خلیج کے ممالک میں کام کرنا کیرل کے اس علاقے کے لوگوں کے لیے خوابوں کی دنیا ہے

بھارت کی جنوبی ریاست کیرل کے مسلم اکثریتی علاقے والے شہر ملا پورم سے کچھ دور واقع ایک سرکاری ہسپتال میں بہت سی خواتین ڈاکٹر کا انتظار کر رہی ہیں۔

گود میں بچے لیے وہ یہاں صلاح و مشورے کے لیے آئی ہیں کیونکہ وہ کئی طرح کی ذہنی پریشانیوں سے دوچار ہیں۔

دراصل کم عمری میں خلیجی ممالک میں کام کرنے والے نوجوانوں سے شادی کے بعد وہ اب اکیلی رہ گئی ہیں۔ اس تنہائی اور اکیلے پن نے ان کو ذہنی طور پر متاثر کیا ہے اور یہ مسئلہ اب سماج کے ساتھ ساتھ کیرالہ کی حکومت کے لیے بھی تشویش کا موضوع بن گیا ہے۔

حکومت نے ملا پورم، كوزيكوڈ اور آس پاس کے علاقوں میں ضلع، تحصیل اور یہاں تک کہ گاؤں کی سطح پر بھی نفسیاتی علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی تقرری شروع کر دی ہے تاکہ ذہنی طور سے پریشان ان خواتین کو راحت مل سکے۔

سرکاری ہسپتال میں کام کر نے والی ڈاکٹر رملا روز کئی مریضوں سے ملتی ہیں۔ وہ اس مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مگر مریضوں کی اتنی تعداد ہے کہ وہ بھی دن بھر ان سے بات کرتے کرتے تھک جاتی ہیں۔

جب وہ کچھ لڑکیوں سے مليالم زبان میں گفتگو کر رہی تھیں تو میں ہسپتال میں ان کے کلینک میں ہی موجود تھا۔

انھوں نے اپنی گفتکو کا لب لباب اس طرح بتایا ’سب سے بڑا مسئلہ کم عمر میں لڑکیوں کی شادی کرنے کی رسم ہے۔ وہ جلدی ماں بن جاتی ہیں اور شوہر سے دور رہنے کے سبب ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں رہتی۔ذہنی بیماری دیگر کئی طرح کے مسائل کو پیدا کرتی ہیں۔'

گلف سنڈروم

"گلف سنڈروم ایک حقیقت ہے۔ لوگ اسے قبول بھی کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے معاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ یہ اب یہاں کی زندگی کا حصہ ہے۔ کئی ایسے کیس سامنے آئے ہیں جہاں شادی کو بیس سال گزر گئے ہیں مگر شوہر بیوی اس دوران اگر ساتھ رہے ہیں، تو وہ صرف نو یا دس ماہ کے لیے"

رملا نے بتایا کہ وقت کے ساتھ کنبے میں کئی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔’شوہر کے ساتھ مسئلہ اور سسرال کا مسئلہ، جس کی وجہ سے یہ لڑکیاں ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔‘

’ان کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ سہاگن ہوتے ہوئے بھی وہ بیواؤں جیسی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ شوہر کا انتظار کرنا ان کی قسمت ہے اور اپنے ارمانوں کا گلا گھوٹنا ان کا فرض۔‘

علاقے کے معروف وکیل شمس الدين کہتے ہیں کہ اب ملا پورم کے لوگوں نے انہی حالات میں جینے کی عادت ڈال لی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’گلف سنڈروم ایک حقیقت ہے۔ لوگ اسے قبول بھی کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے معاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ یہ اب یہاں کی زندگی کا حصہ ہے۔ کئی ایسے کیس سامنے آئے ہیں جہاں شادی کو بیس سال گزر گئے ہیں مگر شوہر بیوی اس دوران اگر ساتھ رہے ہیں، تو وہ صرف نو یا دس ماہ کے لیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اب سماج کے اس طرز عمل کی وجہ سے خاندانی تنازعات اپنے عروج پر ہیں اور اس علاقے میں طلاق کے معاملے بھی زیادہ ہو رہے ہیں۔

سماج میں اس مسئلہ نے جب خوفناک صورت اختیار کرنا شروع کی تو جماعت اسلامی نے بھی اسے روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر بیداری مہم چلائی اور کئی علاقوں میں اپنے كونسلر مقرر کیے۔

جماعت کے ترجمان نصیرالدین النگل کا کہنا ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ لڑکیاں اس سے کمزور ہو رہی ہیں بلکہ وہ اس حالت سے اور مضبوط ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شوہر کے بغیر رہنے پر وہ خاندان کے سربراہ کا کام کر رہی ہیں اور اچھی مینیجر بن رہی ہیں۔

کیرالہ پریار ڈیم

کیرالہ اپنے قدرتی مناظر کے لیے جانا جاتا ہے

اس طرح کی شادیوں کے کئی اور پہلو بھی ہیں۔ وہ لڑکے، جو اپنی پوری زندگی خلیج کے ممالک میں محنت و مزدوری میں گزار دیتے ہیں تاکہ ان کا خاندان خوش رہے، وہ زندگی کے اگلے مراحل میں اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے لگتے ہیں۔

خاندان سے دور رہنے کی وجہ سے خاندان کے لوگوں کے ساتھ ان کا اتنا جذباتی لگاؤ نہیں رہتا۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ صرف پیسے کمانے کی ایک مشین بھر بن کر رہ گئے ہیں۔

ملا پورم میں میری ملاقات ادھیڑ عمر کے محمد كٹي سے ہوئی جو خلیج میں کئی سالوں تک ڈرائیور کی نوکری کرنے کے بعد واپس لوٹے تو ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔ نہ بیوی بچوں کا ساتھ اور نہ ہی بینک بیلنس یا کوئی اور سرمایہ۔

وہ جذباتی ہو کر کہنے لگے ’ کمانے کے لئے بیرون ملک گئے۔ رات دن محنت کی، دور رہ کر پیسے جمع کیے، دور رہنے سے کیا ہوا۔ یہ ہوا کہ ہمارے تئيں کسی کے دل میں کی کوئی جذبہ نہیں ہے۔ ہم ساتھ نہیں رہے نا۔ اب نہ بیوی پہچانتی ہے اور نہ بچے۔‘

پھر بھی بحیرہ عرب کے اس پار آباد خلیج کے ممالک کیرالہ کے اس علاقے کے لوگوں کے لیے خوابوں کی دنیا ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ لوگ اب وہاں انتہائی کم رقم کے عوض بھی کام کرنے کو تیار ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔