دلی گینگ ریپ، عدالت میں عینی شاہد کی پیشی

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 فروری 2013 ,‭ 08:08 GMT 13:08 PST

یہ مقدمہ ساکیت کی ایک فاسٹ ٹریک عدالت میں چل رہا ہے

بھارتی دارالحکومت دلی میں سولہ دسمبر دو ہزار بارہ کو ہونے والےگینگ ریپ کے مقدمے کی آج سماعت ہوئي جس میں اس کیس کے عینی شاہد کے بیانات ریکارڈ کیےگئے ہیں۔

سماعت کے دوران متاثرہ لڑکی کے دوست نے عدالت میں اپنا بیان دیا جس کے بعد انہیں اس بس میں لے جایا گیا جس میں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

اس کیس میں پولیس نے اسّی افراد کو گواہ بنایا ہے لیکن اس واقعے کے عینی شاہد متاثرہ لڑکی کے ایک دوست ہیں جو واقعے کے دوران بس میں موجود تھے۔

عینی شاہد یعنی لڑکی کے دوست بھی اس واقعے میں بری طرح سے زخمی ہوئے تھے اور منگل کی صبح انہیں وہیل چیئر پر عدالت میں پیش کیا گيا۔

پولیس حکام کے مطابق اس کیس میں اضافی چارج شیٹ داخل کی گئی ہے جس میں متاثرہ لڑکی کی لاش کی ٹیسٹ رپورٹ سے متعلق معلومات کو شامل کیا گيا ہے۔

اس معاملے میں پانچ افراد پر اجتماعی جنسی زیادتی اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اگر وہ مجرم پائےگئے تو انہیں موت کی سزا مل سکتی ہے۔

اس سے قبل والی سماعت کے بعد ملزم کے ایک وکیل نے بتایا تھا کہ پانچوں ملزمان نے جرم سے انکار کیا ہے۔

اس کیس کے چھٹے ملزم کو ایک عدالتی ٹربیونل نے نابالغ قرار دیا تھا اس لیے ان پر مقدمہ نابالغوں کی عدالت میں چل رہا ہے۔

بھارتی قوانین کے مطابق اٹھارہ برس کی عمر تک کے فرد کو نابالغ مانا جاتا ہے اور ایسے نابالغ پر مقدمہ ’جوونائل جسٹس ایکٹ‘ کے تحت چلتا ہے اور اس کے تحت زیادہ سے زیادہ تین برس قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

عدالت نے مقدمہ کی کارروائي کو میڈیا میں رپورٹ کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس لیے سماعت کی تفصیلات کو نشر یا شائع‏ نہیں کیا جا سکتا۔

ان تمام ملزمان پر کل 13 کیس درج کئے گئے ہیں جن میں قتل اور جنسی زیادتی کے الزامات شامل ہیں۔ پولیس نے اس معاملے کی فورنسک اور ڈی این اے رپورٹ پہلے ہی تیار کر لی تھی۔

گذشتہ 16 دسمبر کو دہلی کی ایک چلتی بس میں تئیس سال کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ اس دوران ان پر حملہ بھی کیا گيا تھا جس میں طالبہ بری طرح زخمی بھی ہوئی تھیں۔

پہلے ان کا دلی کے ایک ہسپتال میں علاج ہوا تھا پھر حالات کی سنگینی کے پیش نظر انہیں سنگاپور کے ایک ہسپتال میں علاج کے لیے بھیجا گيا لیکن علاج کے دوران ہی وہیں ان کی موت ہوگئی تھی۔

اس واقعہ کے پس منظر میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جس کے بعد حکومت نے خواتین کے لیے جنسی تشدد کے قانون میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے آرڈیننس جاری کیا ہے۔

نئے قانون میں خواتین کے ساتھ جنسی زيادتی اور تشدد کے لیے سخت سزائیں دینے کی بات کہی گئي ہے لیکن اس کا اطلاق ان ملزمان پر نہیں ہوگا۔

قانونی طور پر جس دن ایف آئی آر درج کی گئی اسی روز کے قانون کے مطابق مقدمہ چلتا ہے اس لیے اس مقدمے کی سماعت پرانے قانون کے مطابق ہی ہوگي۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔