’والد کے نشے کا شکار، پانچ ماہ کی بچی چل بسی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 08:35 GMT 13:35 PST
بچیوں کے قتل پر مظاہرہ

بھارت میں رحم مادر میں اسقاط حمل کے ذریہ بچیوں کے قتل کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں

بھارتی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور کے ایک ہسپتال میں داخل پانچ ماہ کی اس بچی نے دم توڑ دیا ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کے والد نے مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ان کا منہ کاٹ لیا تھا اور ناک چبا لی تھی۔

کئی دنوں سے شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال ایس ایم ایس میں وہ بچی زیر علاج تھی۔

بیکانیر ضلع کے پولیس سپریٹنڈنٹ راکیش سكسینا نے ہمارے نامہ نگار نارائن باریٹھ کو بتایا ہے کہ بدھ کو اس بچی کی تقریبا ساڑھے دس بجے موت ہو گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب بچی کے والد کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

اس سے قبل یکم فروری کو اس بچی کے چہرے کی پہلی سرجری ہوئی تھی۔ دوسری سرجری اگلے مہینے ہونے والی تھی۔

اس بچی کے والد نے مبینہ طور پر شراب کے نشے میں چھبیس جنوری کو اس پر حملہ کر دیا تھا۔

خبروں کے مطابق اس افسوس ناک واقعہ کے بعد بچی کی ماں نے شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی جس کے بعد اس کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

رپورٹوں کے مطابق اس گرفتاری سے ناراض ہو کر اس خاتون کے سسرال والوں نے اس عورت کو گھر سے نکال دیا تھا اور وہ خاتون اپنے والد کے ساتھ ضلع ہنساسر میں رہ رہی تھی۔

ریاستی دارالحکومت جے پور سے چارسو کلو میٹر دور رہنے والی اس خاتون کی دو بیٹیاں ہیں۔

اس پورے واقعے کو خواتین کے ساتھ سماجی رویے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت میں لڑکیوں کے رحم مادر میں قتل کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔