پاکستان ایک فرضی ملک ہے: جسٹس کاٹجو

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 10:53 GMT 15:53 PST
مارکنڈے کاٹجو

مارکنڈے کاٹجو بھارت کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں

بھارت میں پریس کونسل کے صدر اور سابق چیف جسٹس مارکنڈے كاٹجو نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ’فیک‘ یا فرضی ملک ہے جسے برطانیہ نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت بنایا تھا۔

دلّی یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) ماركنڈے كاٹجو نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اگلے پندرہ بیس برسوں میں بھارت اور پاکستان پھر سے ایک ہو جائیں گے اور ایک مضبوط، طاقتور، سیکولر اور روشن خیال حکومت اقتدار میں آئے گی۔

انہوں نے حال میں پاکستانی فوج کی طرف سے مبینہ طور پر بھارتی فوجی کا سر کاٹے جانے کے بعد ذرائع ابلاغ کے ذریعے جنگی جذبات پیدا کیے جانے کی بھی مذمت کی۔

جسٹس مارکنڈے كاٹجو نے کہا کہ ’سب سے پہلے میں آپ کو بتا دوں کہ پاکستان کوئی ملک ہی نہیں ہے۔ یہ ایک فرضی ملک ہے جسے برطانوی حکومت نے اپنی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت بنایا تھا۔ ہم بیوقوف ہیں اور برطانوی ہمیں احمق بناتے رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جسٹس (ر) کاٹجو نے بھارت کی نوے فیصد آبادی کو بے وقوف قرار دیا تھا۔

جسٹس مارکنڈے كاٹجو کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی بات کرنا قوم مخالف کام ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ ہوتی ہے تو دونوں ممالک کی اقتصادی حالت جو پہلے سے ہی خراب ہے مزید برباد ہو جائے گی۔

جنگ کی قیمت

"آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ بہت مہنگی چیز ہے۔ ہم نے تین جنگیں لڑی ہیں۔ کیا اس کی وجہ سے ہمارا معیار زندگی بہتر ہوا ہے"

انہوں نے کہا کہ ’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ بہت مہنگی چیز ہے۔ ہم نے تین جنگیں لڑی ہیں۔ کیا اس کی وجہ سے ہمارا معیار زندگی بہتر ہوا ہے؟‘

انہوں نے فلم اداکاروں اور کھلاڑیوں سے متعلق غیر اہم باتوں کو اچھالنے اور اہم مسائل جیسے غربت، قیمت میں اضافہ، بے روزگاری اور کسانوں کی خود کشیوں کو نظر انداز کرنے پر بھی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا۔

جسٹس (ر) كاٹجو نے کہا کہ ’گزشتہ پندرہ برسوں میں ڈھائی لاکھ کسانوں نے خود کشی کی ہے لیکن اس خبر کو میڈیا نے پانچ سالوں تک دبایا۔ یہ خبر تبھی سامنے آئی جب پی سائیں ناتھ نے اس کے بارے میں لکھا۔ ابھی بھی کوئی اس کے بارے میں نہیں لکھ رہا۔ سب یہی لکھ رہے ہیں کہ کرینہ کا کس سے عشق چل رہا ہے یا سچن تندولکر اپنی سوویں سنچری بنا رہے ہیں۔‘

جسٹس مارکنڈے كاٹجو نے اس بات کے لیے بھی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ انّا ہزارے کی بدعنوانی مخالف تحریک کی چوبیس گھنٹے کوریج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک پر اس طرح شور مچایا گیا گویا یہ ملک کے تمام مسائل حل کر دے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔