بھارت: بچہ دانی نکالنے کے ہزاروں واقعات

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 06:19 GMT 11:19 PST
راجستھان کے گاؤں

راجستھان کے گاؤں میں بے سبب رحم مادر نکالنے کے واقعات سامنے آئے ہیں

بھارت میں ہزاروں خواتین آپریشن کے ذریعے اپنی یُوٹرس یا بچہ دانی ہٹوا رہی ہیں۔ کئی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کئی ڈاکٹر صرف پیسہ کمانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں اور یہ آپریشن غیر ضروری ہیں۔

راجستھان کی باشندہ سنیتا کو اپنی عمر کا صحیح علم نہیں ہے۔ اسے صرف اندازہ ہے کہ وہ پچیس سال کی ہوگی۔ میں راجستھان کے ایک گاؤں میں اس سے ملی۔ وہ زیورات سے لدی ہوئی تھی۔ جب وہ ہاتھ ہلا کر بات کرتی تھی تو چوڑياں بھی ساتھ میں کھنکتی تھیں۔

لیکن جب وہ اپنے آپریشن کے بارے میں بتاتی ہے تو سنیتا کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔

وہ کہتی ہے’میں ڈاکٹر کے پاس اس لیے گئی تھی کیونکہ حیض کے دوران بہت خون بہتا تھا۔ ڈاکٹر نے الٹراساؤنڈ کیا اور کہا کہ مجھے کینسر ہو سکتا ہے۔ مجھے اسی دن بچہ دانی ہٹانے کے لیے کہا گیا۔‘

سنیتا اس طرح آناً فاناً آپریشن نہیں کروانا چاہتی تھی اور اپنے شوہر سے پہلے بات کرنا چاہتی تھی۔

لیکن سنیتا کے مطابق ڈاکٹر نے کہا کہ آپریشن انتہائی ضروری ہے اور اسے چند گھنٹوں میں ہی آپریشن کرانے بھیج دیا گیا۔

ان کے آپریشن کو دو سال ہو چکے ہیں لیکن سنیتا کہتی ہیں کہ انہیں بچوں کی دیکھ بھال اور کام کرنے میں اب بھی کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

"میں مریضوں کو سمجھاتي ہوں کہ انفكشن سے کینسر نہیں ہوتا۔ کچھ بات سمجھتے ہیں لیکن کچھ یقین نہیں کرتے کیونکہ ان سے کہا گیا ہے کہ اگر رحم مادر نہیں ہٹایا تو کینسر ہو جائے گا اور آپ مر جاؤ گے"

ڈاکٹر منیتا

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہاں نوے فیصد عورتوں نے آپریشن کروایا ہے جن میں بیس اور تیس سال کی کچی عمر کی خواتین بھی شامل ہیں۔

اس آپریشن کے لیے ڈاکٹروں کی فیس دو سو ڈالر یعنی تقریبا دس ہزار بھارتی روپے ہے۔ گاؤں والوں کو آپریشن کے لیے اکثر مویشی یا دیگر چیزیں فروخت کرنی پڑتی ہیں۔

میں اس چھوٹے سے کلینک پہنچ گئی جس کے بارے میں سنیتا اور دیگر خواتین نے کہا تھا کہ وہیں سے انہیں بچہ دانی ہٹانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

جب میں نے خواتین کے الزامات وہاں موجود ڈاکٹر کو بتائے تو انھوں نے نہ میں سر ہلا دیا اور مسکرانے لگے۔ اس نے کہا لوگ سچ نہیں بول رہے۔

میں نے ڈاکٹر سے دریافت کیا کہ الٹراساؤنڈ کی بنیاد پر وہ کینسر ہونے کا خدشہ کیسے لگا سکتے ہیں تب انھوں نے اعتراف کیا کہ کئی بار وہ بچہ دانی نکالنے سے پہلے بايوپسي نہیں کرواتے۔

سنیتا

سنیتا کا کہنا ہے کہ وہ رحم مادر نکلوانے کے بعد بھی کمزوری محسوس کرتی ہیں

ایک بار بچہ دانی ہٹائے جانے کے بعد یہ ثابت کرنا آسان نہیں رہتا کہ کیا واقعی آپریشن کی ضرورت تھی یا نہیں۔ یہ سب دیکھ کر مجھ پر یہ تو واضح ہو گیا کہ یہاں کچھ عجیب اور تشویش ناک چیزیں ضرور ہو رہی ہیں۔

راجستھان، بہار، چھتیس گڑھ اور آندھرا پردیش جیسی ریاستوں سے آنے والی رپورٹیں یہ اشارہ دیتی ہیں کہ بہت بڑی تعداد میں خواتین اپنی بچہ دانی نکلوا رہی ہیں۔

چیرٹی پریاس تنظیم کے ڈاکٹر نریندر گپتا ان لوگوں میں شامل ہیں جو مانتے ہیں کہ کچھ ڈاکٹر غلط کاروبار میں ملوث ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بتایا گیا ہے کہ کچھ علاقوں میں پورے کے پورے ضلع میں خواتین کے رحم مادر ہٹائے گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ ڈاکٹر اسے جلد پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ وہ ایسی بیماریوں کے علاج سے پیسہ کما رہے ہیں جن کا دوسرے آسان طریقے سے علاج کیا جا سکتا ہے۔‘

اسی دوران راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں میری ڈاکٹر ونيتا گپتا سے بھی ملاقات ہوئی۔

انہوں نے مجھے بتایا’میرے پاس گاؤں سے ہر ہفتے سات - آٹھ خواتین آتی ہی ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ انہیں یہ بتایا گیا ہے کہ رحم مادر ہٹوا لیں۔ وہ میری رائے لینے آتی ہیں۔ گاؤں میں کینسر کی تصدیق ڈاکٹر بہت جلدی کر دیتے ہیں۔ یہ غلط ہے۔‘

ڈاکٹر ونيتا کہتی ہیں ’میں مریضوں کو سمجھاتي ہوں کہ انفكشن سے کینسر نہیں ہوتا۔ کچھ یہ بات سمجھتے ہیں لیکن کچھ یقین نہیں کرتے کیونکہ ان سے کہا گیا ہے کہ اگر بچہ دانی نہیں نکلوائی تو کینسر ہو جائے گا اور آپ مر جاؤ گے۔‘

کندن کمار

ضلع محسٹریٹ نے سرکاری طور پر اس کی جانچ کرائی اور اس میں بے ربطگیاں پائیں

انہوں نے کہا کہ ’چھوٹے كلینكوں اور ہسپتالوں کے بڑے پیمانے پر میدان میں آنے میں بچہ دانی نکلوانے کرنے کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں صحت کے سرکاری مراکز نہیں ہیں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے كلینكوں کا ہونا ضروری ہے لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان ڈاکٹروں کی نگرانی ہونی چاہیے تاکہ مریضوں کے ساتھ دھوکہ نہ ہو۔

بھارتی حکومت نے سنہ دوہزارآٹھ میں قومی صحت بیمہ اسکیم چلائی تھی۔ اس کے تحت خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندان تیس ہزار روپے تک کا علاج سرکاری خرچ پر چند پرائیوٹ ہسپتالوں سے کروا سکتے ہیں۔

لیکن ان اقدامات کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کچھ ریاستوں میں اس منصوبہ کی وجہ سے بے وجہ آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر غریبوں کے ذریعہ سرکاری پیسہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

بہار کے سمستي پور میں ضلع مجسٹریٹ بچہ دانی ہٹانے کے معاملات سے اتنے پریشان ہوئے کہ انہوں نے ان خواتین کو ایک سرکاری کیمپ میں بلایا جہاں سرکاری ڈاکٹروں نے ان کی طبی جانچ کی۔

اس کیمپ کی رپورٹ کے مطابق 2606 خواتین میں سے 316 یعنی 12 فیصد عورتوں کی بچہ دانی بلاوجہ ہٹائی گئی۔

ایسے کیس بھی سامنے آئے جہاں ڈاکٹروں نے آپریشن کی پوری فیس لی لیکن اصل میں انہوں نے بس اوپری چيرا لگا دیا اور بچہ دانی نہیں ہٹائی۔

لیکن ضلع مجسٹریٹ کی تفتیش کے مطابق کلینک کسی غلط کام سے انکار کرتے ہیں۔

بھارت کے دیہی ترقی کے وزیر جے رام رمیش اسے صحت کے میدان میں عوامی خدمات کی ناکامی سمجھتے ہیں۔

اس درمیان بغیر وجہ خواتین کی بچہ دانی نکلوائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔