’رام مندر بھارتی شناحت کے قیام کے لیے ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 09:46 GMT 14:46 PST
بابری مسجد

چھ دسمبر سنہ بانوے کو ہندوں نے تاریخي بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا

بھارت میں سختگیر ہندو تنظیم آر ایس ایس نے کہا ہے کہ بھارتی شناخت کے دوبارہ قائم کرنے کےلیے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا قیام ضروری ہے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اپنی ایک ذیلی ہندو تنظیم وشو ہندو پریشید کی اس قرار داد کی حمایت کی ہے جس میں رام مندر کی تعمیر کی بات کی گئی ہے۔

کمبھ میلے میں شرکت کے لیے موہن بھاگوت الہ آباد میں ہیں جہاں نے انہوں نے ایک بیان میں کہا ’ آخر ہمیں رام ندر کے لیے گڑگڑانا کیوں پڑتا ہے؟ کیوں کہ یہ ایک مندر کا مسئلہ ہے۔ یہ تو بھارت کی شناخت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے ہے۔‘

کمبھ میں تقریباً دو لاکھ سادھو جمع ہیں جو بابری مسجد کی جگہ رام مند کی تعمیر پر نئی حکمتِ عملی وضع کرنے پر فیصلہ کریں گے۔ موہن بھاگوت بھی اس میں اپنا موقف پیش کریں گے۔

بدھ کے روز سختگیر ہندو نظریاتی تنظیم وشو ہندو پریشید نے رام مندر کی تعمیر کے لیے نئی مہم چلانے کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے قانون وضع نہ کیا گیا تو وہ اس کے خلاف ملک گیر احتاجی مہم شروع کریں گے۔

"آخر ہمیں رام ندر کے لیے گڑگڑانا کیوں پڑتا ہے؟ کیوں کہ یہ ایک مندر کا مسئلہ ہے۔ یہ تو بھارت کی شناخت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے ہے۔"

موہن بھاگوت

بھارتیہ جنتا پارٹی کے منتخب ہونے والے نئے صدر راج ناتھ سنگھ نے بھی گزشتہ روز کمبھ کا دورہ کیا تھا اور وشو ہندو پریشید کے کیمپ میں گئے تھے۔ انہوں نے بھی رام مندر کی تعمیر کے لیے پارٹی کے عہد کو دہرایا۔

ان کا کہنا تھا ’مندر کے لیے کام کرنا ہماری گہری خواہش ہے، میں آپ کی دعاؤں کا طلب گار ہوں کہ اس کام کو مکمل کرنے کی ہمیں طاقت ملے۔‘

ادھر جمعرات کو سپریم کورٹ نے مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی پر اس بات کے لیے سخت نکتہ چینی کی گئی ہے کہ آخر اس نے بابری مسجد کے انہدام والے کیس میں بی جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی کے خلاف سازش کے مقدمہ میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیوں نہیں کیا۔

بابری مسجد کے انہدام کے فورا بعد وہیں یہ عارضی مندر تعمیر کر دیا گيا تھا جہاں اب پوجا ہوتی ہے

الہ آباد کے ہائي کورٹ نے مسجد کے انہدام میں لال کرشن اڈوانی کو سازش کرنے کے الزام سےبری کر دیا تھا لیکن اس فیصلے کے خلاف سی بی آئی نے اب تک اپیل نہیں کیا۔

چھ دسمبر سنہ انیس سو بانوئے کو ہزاروں ہندو کارسیکوں نے بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو لال کرشن اڈوانی سمیت بی جے پی کے کئی رہنما وہیں موجود تھے۔

راشٹریہ سویم سنگھ بھارتی جنتا پارٹی کی نظریاتی تنظیم ہے جو اس کے لیے زمینی سطح پر کام کرتی ہے اور وقتا فوقتا اسے مشورہ بھی دیتی رہتی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس چاہتی ہے کہ بی جے پی ایک بار پھر پوری طرح سے ہندوتوا کے ایجنڈے کو اپنا لے اور انتخابات سے پہلے اس کا اعلان کرے۔

ادھر وی ایچ پی پہلے ہی اسی کے پیش نظر وزارتِ عظمٰی کے عہدے کے لیے نریندر مودی کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے۔

آر ایس ایس اور وی ایچ پی کا خیال ہے کہ اگر بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں آنا ہے تو اسے ہندوتوا کی پالیسی پر دوبارہ اپنانی ہو گی ورنہ اسے اتنی سیٹیں نہیں مل سکتیں جس سے وہ اقتدار پر آ سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔