کشمیر: راک بینڈ کو دھمکیاں دینے والےگرفتار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 07:31 GMT 12:31 PST

پراگاش راک بینڈ صرف لڑکیوں پر مشتمل ہے جس نے فتوی کے بعد موسیقی ترک کرنےکا اعلان کیا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی پولیس نے ان تین لڑکوں کوگرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے فیس بُک پر مغربی موسیقی کا راک بینڈ چلانے والی تین لڑکیوں کو دھمکیاں دی تھیں۔

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سرینگر، اننت ناگ اور گاندربل سے ہونے والی گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لڑکیوں کو فیس بک پر ہراساں کرنے والے چار نوجوانوں کی شناخت ہوچکی تھی جن میں سے ابھی صرف تین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق چوتھا لڑکا روپوش ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ یہ لڑکا جنوبی ضلع جموں فرار ہوچکا ہے۔

گرفتار ہوچکے نوجوانوں میں سرینگر کے ارشاد احمد، اننت ناگ کے طارق احمد، گاندربل کے رمیز شاہ شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فیس بُک پر ’ کشمیر لائیو‘ نامی صفحہ انہی نوجوانوں نے شروع کیاتھا۔

پولیس کے خفیہ ادارے سپیشل برانچ کے افسروں کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان فیس بک پر چالیس ایسے صفحات بنا چکے ہیں، جن پر ’سماج دشمن‘ مواد شائع کیا جاتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل سرینگر میں دسویں جماعت کی تین طالبات نوما نذیر، انیکا خالد اور فرح دیبا نے ’پراگاش‘ یعنی روشنی کے نام سے ایک راک بینڈ شروع کیا تھا۔

پچھلے سال دسمبر میں بھارت کے نیم فوجی ادارے سینٹرل ریزرو پولیس فورس نے موسیقی کے ایک مقابلے کا انعقاد کیا تھا جس میں اس بینڈ نے پہلی مرتبہ اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

"انڈین ٹی وی پرکافی مباحث ہوئے، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ آخر فوج یا نیم فوجی ادارے موسیقی کے کانسرٹ کیوں منعقد کرتے ہیں۔ کشمیر میں موسیقی کو پذیرآئی حاصل ہے اور مقامی طور پر موسیقی کی کئی اصناف مقبول ہیں۔ لیکن جب موسیقی ہمارے ہی خلاف کسی جنگی حکمت عملی کا حصہ بنے تو اس پر سماجی حلقے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔"

پروفیسر حمیدہ

اس کانسرٹ کے بعد فیس بُک پر بعض نوجوانوں نے لڑکیوں کو ہدف تنقید بنایا اور انہیں مخاطب کر کے رکیک دھمکیاں تحریر کیں۔

اس معاملے پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹوئٹر پر ’پراگاش‘ کی حمایت کا اعلان کیا تو سرکاری حمایت یافتہ مفتئ اعظم بشیر الدین نے راک بینڈ کے خلاف فتویٰ جاری کر دیا جس کے فوراً بعد راک بینڈ سے جُڑی بعض لڑکیوں نے کہا کہ وہ موسیقی ترک کرچکی ہیں۔

بھارتی میڈیا میں عمر عبداللہ کو اس بات پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کہ انہوں نے کم سن موسیقاروں کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کیا۔

سماجی کارکن پروفیسر حمیدہ نعیم کا کہنا ہے کہ اس سارے تنازع میں بھارتی میڈیا نے کشمیریوں کو اجتماعی طور قدامت پسند قرار دینے کی دانستہ کوشش کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’انڈین ٹی وی پر کافی مباحثے ہوئے، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ آخر فوج یا نیم فوجی ادارے موسیقی کے کانسرٹ کیوں منعقد کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے ’ کشمیر میں موسیقی کو پذیرائی حاصل ہے اور مقامی طور پر موسیقی کی کئی اصناف مقبول ہیں لیکن جب موسیقی ہمارے ہی خلاف کسی جنگی حکمت عملی کا حصہ بنے تو اس پر سماجی حلقے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔