سوشل میڈیا پر افضل گورو کی پھانسی بحث کا موضوع

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 07:24 GMT 12:24 PST
ٹوئٹر

ٹوئٹر پر بھی افضل گرو کی پھانسی پر بحث جاری ہے

بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے جرم میں محمد افضل گورو کو پھانسی دینے کی خبر پر سوشل میڈیا پر زبردست بحث جاری ہے۔ بیشتر افراد نے حکومت کے فیصلے کی ستائش کی ہے۔

فیس بک اور ٹوئٹر پر افضل گورو کی پھانسی کے بارے میں بیشتر افراد نے کہا ہے کہ ’حکومت نے بتا دیا ہے کہ وہ شدت پسندوں اور شدت پسندی کے تئیں نرم رویہ نہیں رکھتی ہے۔‘

لیکن بعض افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے اننخابات کے پیش نظر افضل گورو کو پھانسی پر لٹکایا تاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس کوئی ایشو ہی نہ رہے۔

بھارت کے سرکردہ صحافی راج دیپ سردیسائی نے ٹوئیٹ کیا ہے، ’اجمل قصاب کو پارلیمان کے موسم سرما کے اجلاس سے پہلے پھانسی دے دی گئی اور افضل گرو کو بجٹ اجلاس سے پہلے، کہیں یہ اتفاق تو نہیں؟‘

ہندوستان ٹائمز کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر سمر ہلنکر نے لکھا ہے ’افضل گورو کو خفیہ طور پر پھانسی کیوں دی گئی؟ کیا یہ صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہماری اجتماعی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے؟

پیپلی لائیو فلم کی ہدایت کار انوشا رضوی نے فیس بک پر لکھا ہے، ’حکومت پھانسی دینے کے لیے سنیچر کا دن کیوں مقرر کرتی ہے؟ یہ کیا ٹی وی چینلز کے شیڈیول کے مدنظر کیا گیا ہے؟ حکومت کو قانونی طور پر اس طرح کے فیصلوں کے بارے میں عوام کو خبردار کرنا چاہیے۔‘

"حکومت پھانسی دینے کے لیے سنیچر کا دن کیوں مقرر کرتی ہے؟ یہ کیا ٹی وی چینلز کے شیڈیول کے مدنظر کیا گیا ہے؟"

پیپلی لائیو فلم کی ہدایت کار انوشا رضوی

کرن بیدی نے لکھا ہے ’قانون نے اپنا کام کیا ہے۔ افضل کو پھانسی ہوئی ہے۔‘

سرکردہ دانشور اور سماجی کارکن مدھو کشور نے لکھا ہے ’افضل گورو کا شدی پسندی کی کارروائی سے براہ راست تعلق نہیں تھا۔ ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردینا چاہیے تھا۔ مجھے ان کے خاندان والوں سے ہمدردی ہے۔‘

وہیں سہیل سیٹھ نے لکھا ہے ’افضل گورو کو پھانسی۔سرکار نے ہمت دکھائی ہے۔ اس کی جتنی ستائش کی جائے اتنی کم ہے۔ بھگوان کا شکر ہے کہ صدر پرنب مکھرجی نے سخت فیصلہ کیا۔‘

سرکردہ شخصیات کے علاوہ عام عوام نے بھی افضل گورو کی پھانسی پر شدید ردعمل دیا ہے۔

فیس بک پر ایک بھارتی شہری عبدالمعین نے لکھا ہے کہ ’افضل گرو کی پھانسی سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہم لوگ ناانصافی کی حمایت کرتے ہیں۔‘

وہیں صحافی اور سرکردہ سماجی کارکن شیوم وج نے لکھا ہے کہ بھارت ایک ’ہینگنگ ری پبلک بن گیا ہے۔‘

بھارت کے نامور فن کار شدھابرتا سین گپتا نے اپنے فیس بک سٹیٹس پر لکھا ہے کہ ’افضل گورو نے ایک بھی انسان کا خون نہیں بہایا ہے لیکن اسے پھانسی دے دی گئی ہے۔ یہ دن بارت کی تاریخ کا ایک تاریک دن ہے۔‘

دوسری جانب افضل گورو کی پھانسی کی خبر بھارتی ٹی وی چینلز کی ایک بڑی خبر بنی ہوئی ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔