شو سینا کی رکن خواتین کے لیے چھریاں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 فروری 2013 ,‭ 17:20 GMT 22:20 PST
شو سینا کی رکن خواتین

’عورتوں کو اپنے پرس میں لِپ اسٹک کے بجائے رامپوری چاقو رکھنا چاہئے‘۔

دسمبر میں دلی میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی ایک طالبہ کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں میں خواتین کے لیے بہتر سکیورٹی کے مطالبات کیےگئے۔ شیو سینا نے اس جانب پہلا قدم اٹھاتے ہوئے خواتین کو چاقو تقسیم کرنے شروع کر دیے ہیں۔

وسطی ممبئی کے لال باغ ضلع میں شو سینا کے کچھ رہنما تیز دھار والی تقریباً اکیس ہزار چھریاں تقسیم کر رہے ہیں۔

ہزاروں خواتین ایک ریلی میں اپنے حصے کی چھری لینے کی منتظر نظر آئیں یہ ریلی ان کے رہنما اور شو سینا کے بانی بال ٹھاکرے کے یومِ پیدائش کے موقع پر کی گئی ہے۔

بال ٹھاکرے نے شو سینا کی بنیاد 1966 میں ڈالی تھی۔وہ اس وقت ایک سیاسی کارٹونسٹ تھے۔ ابتداء میں اس پارٹی نے مہاراشٹر کے مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد شروع کی لیکن بعد میں پارٹی کی جانب سے ہڑتالوں اور تشدد کی پالیسی کے سبب یہ شہر کی ایک بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھری۔

گزشتہ دسمبر میں دلی میں اجتماعی زیادتی کے خوفناک واقعہ کے بعد شو سینا نے اُس مسئلے پر اپنی توجہ مرکوز کردی جو اس وقت پورے بھارت کے اخبارات اور میڈیا پر چھایا ہوا ہے اور وہ ہے خواتین کےحقوق۔

آج صبح جب میں ممبئی پہنچا تو بس میں میری ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی جو چنئی کی ایک طالبہ تھی یہ لڑکی شو سینا کی سیاست سے اتفاق نہیں کرتی لیکن اس لڑکی کا کہنا تھا کہ شو سینا کی ’اخلاقی پولیس فورس‘ نے ممبئی میں عورتوں کی زندگی آسان کر دی ہے۔

اس لڑکی کا کہنا تھا کہ ایک دن پہلے ہی اس نے ممبئی میں آدھی رات کو تنہا ٹرین کا سفر کیا جبکہ وہ اپنے شہر میں اس طرح سفر کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا چلن بھارت کے دوسرے شہروں کے مقابلے ممبئی میں کہیں کم ہے اور اس کا سہرا شو سینا کے سر ہے۔

شو سینا کے مسائل اپنی جگہ لیکن ملک میں ’ستی‘ اور زبردستی شادی کرنے کی رسم کےخلاف اپنی پارٹی کی رکن خواتین کو آگے رکھنے میں اس پارٹی کا ریکارڈ بہت اچھا ہے۔

میں نے ٹھاکرے کے سوانح نگار ویبھو پراندیار کے ساتھ ایک ریسٹورانٹ میں ملاقات کا وقت طے کیا جو ایک سیاسی صحافی ہیں۔

جب میں ویبھو پراندیار سے ملنے جا رہا تھا تو ہاکی کے اُس سٹیڈیم سے بھی گزرا جہاں شو سینا کے حالیہ مظاہرے کے نشانات ابھی تک موجود تھے جس کے بعد پاکستان کی ہاکی ٹیم کو پاکستان واپس جانا پڑا تھا۔

ویبھو پراندیارکے ساتھ ملاقات میں میں نے شہر میں خواتین کے دفاع میں شو سینا کے رول کے بارے میں پوچھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شو سینا اس وقت اپنی شناخت کے بحران کے دور سے گذر رہی ہے۔

1999 میں اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد سے وہ کسی بڑے موضوع کی تلاش میں ہے اور دلی کے واقعہ کے بعد سے لوگوں میں غصہ ہے اور انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت عورتوں کے تحفظ کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر رہی ہے اور ایسے میں شو سینا کو لگتا ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

میں نے ویبھو سے شو سینا کے بارے میں آنے والی ان خبروں کے بارے میں پوچھا جن میں وہ سکرٹ پہننے والی لڑکیوں اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر گھومنے والے جوڑوں پر حملے کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان خبروں میں تھوڑی بہت سچائی ضرور ہے۔ ویبھو کا کہنا تھا کہ مراٹھی فرقے کے لوگوں میں آزاد خیال خواتین ہوتی ہیں اور مراٹھی گھروں میں عورتیں مردوں سے زیادہ بااختیار ہوتی ہیں۔اور شو سینا کو اس بات کو سمجھنا ہوگا۔

دوسری صبح ٹی وی پر میں نے دیکھا کہ شو سینا کے ایک رہنما عورتوں کو ہتھیار مہیا کرانے کے فیصلے کا بھر پور دفاع کر رہے تھے۔

اس رہنما کا کہنا تھا کہ ’خود پارٹی کے بانی بال ٹھاکرے کہا کرتے تھے کہ عورتوں کو اپنے پرس میں لِپ اسٹک کے بجائے رامپوری چاقو رکھنا چاہئے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔